خطبات محمود (جلد 27) — Page 261
*1946 261 (19 خطبات محمود ---_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_- احباب اپنی قربانیوں کا جائزہ لیں اور دین کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے لئے اپنے چندوں میں اضافہ کریں ) فرمودہ 31مئی 1946ء) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔دنیا پر بھی ایک نازک زمانہ آرہا ہے اور ہماری جماعت پر بھی ایک نازک سے نازک تر زمانہ آرہا ہے۔دنیا پر تباہی اور بربادی کے لحاظ سے اور ہماری جماعت پر اس تباہی اور بربادی کو اپنی قربانی اور اپنے ایثار سے دور کرنے کے لحاظ سے۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے دنیا کی نجات اور دنیا کے لوگوں کا تکالیف سے بچنا یہ صرف احمدی جماعت کی قربانی کے ساتھ وابستہ کیا ہوا ہے۔ایک آدمی دریا یا تالاب میں ڈوبنے لگتا ہے تو چاروں طرف سے لوگ اس کو بچانے کے لئے بھاگ پڑتے ہیں اور لوگوں کے اندر اتنا شدید جذبہ پید اہو جاتا ہے کہ ایسے موقع پر بعض لوگ جو تیر نا نہیں جانتے وہ بھی جوش میں آکر کود پڑتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ دوسرے کو بچانا تو الگ رہا وہ خود اپنی جان کو بھی نہیں بچا سکتے۔کسی انسان کے گھر میں آگ لگ جاتی ہے تو سینکڑوں آدمی اس طرف دوڑ پڑتے ہیں بلکہ بعض تو بجائے مدد کرنے کے رستہ میں روک بن جاتے ہیں کیونکہ آدمی اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ چلنے پھرنے کی گنجائش کم ہو جاتی ہے۔لیکن تعجب ہے کہ ایک انسان کی جسمانی موت جس موت سے اسے کوئی چارہ نہیں تھا، ایک گھر کا تباہ ہو جانا، جس گھر کو تباہی سے ہمیشہ کے لئے کسی صورت میں بھی بچایا نہیں جاسکتا اس کے لئے تو