خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 252

*1946 252 خطبات محمود کی غلامی کی روح بالکل کچلی جائے۔ایک ہندو انگریز کا جس قسم کا غلام تھا۔آج اس سے وہ بہت کم غلام ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ وہ انگریز کی غلامی سے بالکل آزاد ہو گیا ہے مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ انگریز کی غلامی سے بہت حد تک نکل چکا ہے اور اب پہلے کی نسبت وہ بہت کم غلامی کی روح اپنے اندر رکھتا ہے۔لیکن ایک مسلمان ابھی انگریز کا ویسا ہی غلام ہے جیسے پہلے تھابلکہ شاید اس میں غلامی کی روح اب کچھ زیادہ ہی ہو گئی ہو۔ان امور کی اصلاح ضروری تھی مگر ان کی طرف توجہ نہیں کی گئی حالانکہ ان کے بغیر کبھی کوئی قوم کامیاب نہیں ہوئی اور نہ ہو سکتی ہے۔جب کسی قوم کی اخلاقی حالت گر جائے تو وہ لالچ اور فریب اور دھمکیوں سے بہت جلد متاثر ہو جاتی ہے اور جب تک مسلمانوں کے اندر یہ نقص موجود رہے گا کہ وہ دھمکیوں سے مرعوب ہو جائیں گے وہ لالچ اور حرص کا مقابلہ کرنے کی طاقت اپنے اندر نہیں پائیں گے۔اس وقت تک ان کی ترقی کی کوئی صورت نہیں ہو سکتی۔یہ صحیح ہے کہ الیکشن کے موقع پر مسلمانوں میں بہت بڑا جوش پایا جاتا تھا اور انہوں نے اس جوش کا عملی مظاہرہ بھی کیا۔مگر مسلمانوں کا جوش ہمیشہ بدلتا رہتا ہے۔گزشتہ میں سال میں مسلمانوں نے اتنے پلٹے کھائے ہیں کہ ان کو دیکھتے ہوئے ان کے کسی جوش کو کوئی اہمیت ہی نہیں دی جاسکتی۔وہ بڑے جوش سے ایک کام کا آغاز کرتے ہیں مگر ذرا بھی ان کو لالچ دے دیا جائے تو ان کا تمام جوش و خروش سر د ہو جاتا ہے اور وہ اپنے پہلے طریق کے بالکل خلاف چلنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔اور تو اور مسلم لیگ کے کئی ممبر جن سے ہمارا تبادلہ خیالات ہو تا رہتا ہے۔وہ بھی بعض دفعہ چھوٹی چھوٹی شکایتوں کی بناء پر اپنی پارٹی بدلنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔اور پھر ان میں سے بعض کو ہمیں سمجھانا پڑتا ہے کہ یہ طریق تمہارے لئے مناسب نہیں۔اس قسم کے حالات میں اگر کوئی قوم مقابلہ کے لئے کھڑی ہو تو کس طرح ہو۔آخر وہ کونسے ہتھیار ہوں گے جن سے جنگ کی جائے گی جبکہ وہ اخلاقی طور پر غالب نہیں اور جبکہ وہ ہر جگہ خریدے جاسکتے ہیں۔دوسری چیز یہ تھی کہ مسلمانوں کی آواز کو غیر ممالک کے لوگوں تک پہنچایا جاتا اور ان پر مسلمانوں کے مطالبات کی اہمیت کو واضح کیا جاتا۔مگر اس بارہ میں بھی بہت بڑی غفلت سے کام لیا گیا اور مسلمانوں کی آواز کو صحیح طور پر بیرونی ممالک کے لوگوں تک پہنچایا ہی نہیں گیا۔