خطبات محمود (جلد 27) — Page 16
*1946 16 خطبات محمود اگر وہ اپنا کام صحیح طور پر نہیں کرتے اور نالائق ثابت ہوتے ہیں تو یہ ان اساتذہ کی نالائقی کا ثبوت ہو گا۔اساتذہ کو تو چاہئے تھا کہ وہ لڑکوں اور ان کے والدین کو بار بار سمجھاتے۔کبھی کسی محلے میں جلسے کرتے اور کبھی کسی محلہ میں۔جس محلہ میں جلسہ کرتے اس محلہ کے طالب علموں کے والدین کو بلاتے اور انہیں بتلاتے کہ آپ کا لڑکا اتنے دن سکول سے غیر حاضر رہا ہے۔اس میں یہ یہ کمزوری اور خامی ہے۔اس طرح والدین کو بھی ان کی کمزوری اور خامی کا علم ہو تا۔اگر تم اس طرح نہیں کرتے تو والدین کو کیا پتہ کہ وہ روزانہ سکول کا کام کرتا ہے یا نہیں۔یا جو کام اس کو سکول سے ملا ہے اس نے کیا ہے یا نہیں۔اگر والدین کو ان کی ان خامیوں کا علم ہو تو وہ پھر اس کی طرف متوجہ ہوں گے۔شروع میں شاید نہ بھی ہوں لیکن تم انہیں اس بات پر مجبور کر دو کہ یا تو ہمیں اجازت دو کہ ہم مار پیٹ کر ان کی اصلاح کریں اور یا پھر خود ان کو با قاعدہ بناؤ۔اس طرح یقینا لڑکے شدھر جائیں گے۔دیکھو! جب چندے کی تحریک شروع ہوئی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے ایک پیسہ سے شروع کیا تھا مگر اب کم ہی ایسے ہوں گے جو چندہ نہ دیتے ہوں یا جو چندوں میں سستی کرتے ہوں ورنہ اکثریت ہماری جماعت میں ایسے ہی لوگوں کی ہے جو دو آنے فی روپیہ یا تین آنے فی روپیہ یا چار آنے فی روپیہ بلکہ پانچ آنے فی روپیہ تک چندہ دے دیتے ہیں۔( یعنی چندہ عام اور دوسرے چندے تحریک جدید وغیرہ کے ملا کر) یہ سب ترقی آہستہ آہستہ ہوئی ہے۔میں مانتا ہوں کہ یکدم کوئی تغیر نہیں ہو سکتا لیکن یہ تمہارا کام تھا کہ تم جلسے کرتے ، والدین کو توجہ دلاتے ، بار بار محلوں میں جاتے اور لوگوں کو بتاتے کہ ہمارے سکول کا نتیجہ خراب ہوتا ہے، ہمیں شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے آپ لوگ کیوں اپنے بچوں کی نگرانی نہیں کرتے ؟ کیوں ان کی پڑھائی کی طرف توجہ نہیں رکھتے ؟ کیوں وہ آوارگی کی طرف مائل رہتے ہیں؟ یا تو آپ اس کا انتظام کریں یا ہمیں سزا کی اجازت دیں۔اگر وہ ایسا کریں تو اساتذہ کے لئے کوئی نہ کوئی رستہ ضرور نکل آئے گا یا تو والدین اس کی خود اصلاح کریں گے یا ان کو سزا کی اجازت دے دیں گے۔لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایسے وقت میں جبکہ ہمیں تعلیم یافتہ آدمیوں کی ضرورت ہے سکول والے ہمارے ساتھ تعاون کرنے کی بجائے عدم تعاون کر رہے