خطبات محمود (جلد 27) — Page 240
*1946 240 خطبات محمود کانگرسی افسر اور کانگرسی وکلاء اور کانگرسی سرمایہ ان کی مدد کر تا رہا۔جب یہ بات پیش کی گئی تو اس لیڈر نے جواب دیا کہ مقامی جھگڑوں میں ایسی باتیں ہو ہی جایا کرتی ہیں حالانکہ مقامی بات ہو یا مرکزی، دیانت اور انصاف اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ معاملہ کی اچھی طرح غور سے چھان بین کی جائے اور صحیح نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کی جائے۔اگر یہ ثابت ہو جائے کہ فلاں نے ظلم کیا ہے تو اس کے فعل پر نفرت کا اظہار کیا جائے کہ اس نے نہایت خیانت کا کام کیا ہے لیکن بجائے اس کے کہ کانگرسیوں کے فعل پر نفرت کا اظہار کیا جاتا کہہ دیا گیا کہ مقامی اختلافوں کے نتیجہ میں ایسا ہو جاتا ہے۔گویا ان کے نزدیک انصاف اور تقویٰ اپنی ذات میں کوئی چیز نہیں۔اصل چیز جو شوں کا اظہار ہے خواہ کسی رنگ میں کیا جائے۔ممکن ہے کہ ہمیں اپنی حکومت سے آرام بھی ملے لیکن فی الحال زیادہ خطرہ اس بات کا ہے کہ ہم ان کے ذریعہ مصائب کا نشانہ بن جائیں۔ان حالات کو دیکھتے ہوئے اور ان تغیرات کو مد نظر رکھتے ہوئے جماعت کو اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنی چاہئے۔میں دیکھتا ہوں کہ بہت چھوٹی چھوٹی باتوں پر بعض لوگ ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔خود ہی معاہدہ کرتے ہیں کہ ہم دوسروں سے سودا نہیں خریدیں گے ، خود ہی اس پر دستخط کرتے ہیں۔لیکن جب ایک پیسے کا فرق دیکھتے ہیں تو دوسروں کے پاس چلے جاتے ہیں اور اُن سے سودا خرید لیتے ہیں۔جب تک یہ حالت ہے جماعتی نظام کس طرح چل سکتا ہے۔جو شخص ایک پیسہ یا دو پیسے یا آنہ یا دو آنے کی قربانی نہیں کر سکتا ہم اس سے کس طرح امید کر سکتے ہیں کہ ضرورت کے وقت وہ اپنے بیوی بچوں کی قربانی پیش کر دے گا۔ایسے لوگوں کی مثال اس مولوی جیسی ہے جس نے کہا تھا کہ انہوں نے چڑیا جتنا سفید روپیہ میرے سامنے نکال کر رکھ دیا تو میں کیا کرتا۔کل اگر کچھ ہندو محلہ دارالرحمت پر حملہ کر دیں اور احمدیوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں تو ایسے کمزور لوگ کہہ دیں گے کہ ہم کیا کرتے۔ہمیں تو ہندوؤں نے ساٹھ ساٹھ روپے دے دیئے تھے۔ایسے لوگ جماعتی نظام کے لئے سخت نقصان دہ چیز ہیں۔انسان کی اصل حقیقت اور اس کے اخلاص کا پتہ تو قربانی سے چلتا ہے۔ایک روپے یا دو روپے یا دس روپے یا نہیں روپے کا تو سوال ہی نہیں۔اگر انسان کا ایمان