خطبات محمود (جلد 27) — Page 9
*1946 9 خطبات محمود تو کام ہو جائے گا۔جب ان کو چھتیں مبلغ دے دیئے جائیں گے تو وہ کہیں گے کہ ہم سے غلطی ہو گئی تھی۔اصل میں سو مبلغوں کی ضرورت ہے اگر آپ سو مبلغ دے دیں تو پھر یہ کام ضرور ہو جائے گا۔آخر ملکوں میں تغیر پیدا کرنا اور ان کے مذہب کو بدلنا کوئی آسان کام نہیں۔اس کے لئے بہت بڑی جد وجہد اور بہت بڑی قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے اور غیر ممالک کی جماعتوں کا تو ہمیں یہ بھی فائدہ ہے کہ وہ تبلیغ کا خرچ خود اٹھاتی ہیں اور ہم پر بار نہیں بنتیں اور بعض ملک مبلغین کا کرایہ وغیرہ بھی خود برداشت کرتے ہیں۔ہمارا کام صرف ایسے آدمی بھیجنا ہو تا ہے جو وہاں جا کر کام کریں۔شام، فلسطین اور مصر سے جو آمد ہوتی ہے وہ ہماری اس رقم سے جو ہم ان کے لئے خرچ کرتے ہیں کم نہیں ہوتی اور ہمیں کچھ اپنے پاس سے ادا نہیں کرنا پڑتا۔گویا وہ حقیقت میں آپ ہی اپنی رقم خرچ کرتے ہیں۔پس اس وقت ایسے تعلیمیافتہ آدمیوں کی ضرورت ہے جو غیر ممالک میں تبلیغ اسلام کے لئے بھیجے جاسکیں۔جیسا کہ میں نے تحریک جدید کے شروع میں کہا تھا کہ اس کے کاموں کو چلانے کے لئے بہت سے آدمیوں کی ضرورت ہو گی۔روپیہ پیدا کرنے کے لئے بھی آدمیوں کی ضرورت ہے، تبلیغ کرنے کے لئے بھی آدمیوں کی ضرورت ہے، صنعت و حرفت کرنے کے لئے بھی آدمیوں کی ضرورت ہے، تجارت کے کاموں کو چلانے کے لئے بھی آدمیوں کی ضرورت ہے۔پس آج آدمیوں کی ہمیں سخت ضرورت ہے لیکن ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے جو مخلص اور تعلیم یافتہ ہوں۔تعلیم کی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے میرے نزدیک سکولوں اور کالجوں میں لڑکوں کی تعداد آٹھ دس گنے بڑھ جانی چاہئے تھی۔اس میں شک نہیں کہ ہمارے سکول نے پہلے سے ترقی کی ہے۔آج سے چھ سات سال پہلے ہمارے تعلیم الاسلام ہائی سکول میں چھ سات سو کے قریب طالب علم تھے اور اب اس میں سولہ سو سے کچھ اوپر طالب علم ہے لیکن در حقیقت جماعت کی ضرورتوں کے مطابق یہ ترقی کچھ بھی ترقی نہیں ہے۔مجھے یہ سن کر بہت افسوس ہوا کہ ہمارے کالج میں جو احمدی لڑکے داخل ہوئے ہیں ان میں اکثر ایسے ہیں جو تھر ڈ ڈویژن میں پاس ہوئے ہیں۔کل کو احمدی والدین کالج کے پروفیسروں پر الزام لگائیں گے کہ انہوں نے ہمارے بچوں کو کچھ پڑھایا نہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے لڑکے خود تھر ڈڈویژن میں پاس ہوئے ہیں۔