خطبات محمود (جلد 27) — Page 167
*1946 167 خطبات محمود معنے یہ ہیں کہ ہمیں آج سے چند سال کے بعد چھپیں چھیں مبلغ ملنے شروع ہو جائیں گے۔حالت پہلی حالت سے یقیناً بہتر ہے کیونکہ پہلے یہ تعداد دو تین پر آکر رُک چکی تھی مگر اب پھر یہ تعداد بڑھتے بڑھتے پچیس چھیں تک پہنچ گئی ہے۔لیکن مصیبت یہ ہے کہ گو باقی تمام پنجاب کی نسبت ہمارے علماء بہت زیادہ ہیں پھر بھی ہماری ضروریات کے لحاظ سے یہ تعداد بہت کم ہے۔سارے پنجاب میں جس قدر مولوی فاضل پاس ہوتے ہیں ان میں سے چالیس فیصدی احمدی ہوتے ہیں مگر یہ نسبت بھی ایسی ہے جس میں ہم پہلے مقام سے اب گر گئے ہیں۔پہلے یہ حالت ہوا کرتی تھی کہ احمدی اگر اسی فیصدی ہوتے تھے تو غیر احمدی بیس فیصدی ہوتے تھے۔آہستہ آہستہ ہماری تعداد گرتی گئی اور ان کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔گویا دونوں طرف سے فرق پید اہونا شروع ہو گیا۔ہماری طرف سے مولوی فاضل کا امتحان دینے والے کم ہوتے چلے گئے اور اُن کی طرف سے مولوی فاضل کا امتحان دینے والے بڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ ہم اسی فیصدی سے گر کر چالیس فیصدی پر آگئے۔اب میری طرف سے جو تحریک کی جارہی ہے کہ دوستوں کو اپنے بچے مدرسہ احمدیہ میں داخل کرنے چاہئیں۔اگر یہ تحریک کامیاب طور پر جاری رہے تو امید کی جاسکتی ہے کہ چند سالوں میں ہی ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے پچاس ساٹھ بلکہ ستر فیصدی تک پہنچ سکتے ہیں۔بہر حال گو تعداد ہماری زیادہ ہے مگر کام کرنے والوں کے لحاظ سے یہ تعداد زیادہ نہیں۔ہماری جماعت میں سے پچاس ساٹھ طلباء مولوی فاضل کے امتحان میں ہر سال ضرور کامیاب ہونے چاہئیں بلکہ پچاس ساٹھ مولوی فاضل بھی بہت کم ہیں کیونکہ ہماری ضروریات اس سے زیادہ ہیں۔پھر ہمارے سامنے ترقی کا جو وسیع پروگرام ہے اس کے لحاظ سے قطعی طور پر علم کا وہ معیار کافی نہیں سمجھا جا سکتا جو اس وقت ہماری جماعت میں پایا جاتا ہے۔جب تک صرف احمدیت کو سمجھنے کا سوال تھا ، جب تک احمدیت کو سمجھ کر لوگوں کے کانوں تک اس کی آواز کو پہنچانے کا سوال تھا اس وقت تک ہمیں اور قسم کے علوم کی ضرورت تھی، اگر ہم قرآن کریم کو سمجھ سکتے اور دوسروں کو سمجھا سکتے تھے۔اگر ہم احمدیت کو سمجھ سکتے اور دوسروں کو سمجھا سکتے تھے تو یہ بات ہمارے لئے کافی تھی کیونکہ احمدیت کی غرض اس سے پوری ہو جاتی تھی۔لیکن اگر ہم نے دنیا میں باہر نکلنا ہے، اگر ہم نے عرب علماء سے بھی ٹکر لینی ہے اور اگر مروجہ علوم