خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 133

خطبات محمود 133 *1946 جب سندھ کا علاقہ آباد ہونا شروع ہوا تو یہ خواب مجھے یاد آگئی اور اس خواب کی بناء پر میں نے یہاں زمینیں خرید لیں۔جس وقت میں نے یہ خواب دیکھی تھی اُس وقت سندھ کے آباد ہونے کے کوئی آثار نہ تھے اور جتنے بڑے بڑے انجینئر تھے وہ سب سکھر سے نہریں نکالنے کے خلاف تھے۔آخر لارڈ لائڈ 2 نے جو کہ بمبئی کا گورنر تھا چند انجینئروں کو اپنے ساتھ متفق کیا اور سکھر بیراج کی سکیم منظور کروالی اور اسی کے نام سے اس بیراج کا نام لائڈ بیراج ہے۔غرض یہ جائیداد ایک معجزہ اور ایک نشان ہے۔اس کا ہر ایکٹر خدا تعالیٰ کے کلام کی تصدیق کر رہا ہے اور بتا رہا ہے کہ اس جگہ جائیداد کا پید اہونا ایک الہی سکیم کے مطابق ہے۔اور ہمیں چاہئے کہ اس جائیداد کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی کوشش کریں۔پس اگر کسی دوست کو معلوم ہو کہ کسی جگہ اس علاقہ میں اور زمین ملتی ہے تو اسے ہمیں اطلاع دینی چاہئے۔اس وقت ہماری زمینیں ضلع میر پور خاص اور ضلع حیدر آباد میں ہی ہیں لیکن میں چاہتا ہوں کہ سندھ کے تمام علاقوں میں ہماری زمینیں پھیل جائیں کیونکہ جہاں ہماری زمینیں ہوں گی وہاں ہمارے کارکن بھی رہیں گے اور ان کے ذریعہ سندھیوں میں احمدیت پھیلے گی۔پس دوستوں کو اس بات کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہئے کہ جہاں کہیں کسی جائیداد کا پتہ لگے کہ وہ سلسلہ کے لئے فائدہ بخش ہو سکتی ہے فوراً مجھے یا تحریک جدید کو اطلاع دیں۔اس کے بعد میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ سلسلہ کے لئے قربانی کرنے والوں کی یاد گار کو تازہ رکھنے کے لئے میں نے سلسلہ کی جائیداد کے مختلف گاؤں کے نام بزرگوں کے ناموں پر رکھنا تجویز کیا ہے۔رسول کریم صلی علیکم چونکہ ہمیں سب سے زیادہ عزیز ہیں اس لئے آپ کے نام پر اس گاؤں کا نام جو تحریک کی جائیداد کا مرکز ہے محمد آباد رکھا گیا ہے۔صدر انجمن احمدیہ کی جائیداد کے مرکز کا نام احمد آباد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے نام پر رکھا گیا ہے۔محمد آباد آٹھ ہزار ایکڑ کا رقبہ ہے۔اس لحاظ سے میر اخیال ہے اس میں چھ سات گاؤں اور آباد ہو سکتے ہیں۔اگر بارہ سو ایکڑ کا ایک گاؤں بنایا جائے تو سات گاؤں اس رقبہ میں آباد ہو سکتے ہیں۔اس وقت جو آبادیاں یہاں قائم ہو چکی ہیں ان میں سے ایک کا نام پہلے سے حضرت خلیفہ اول کے نام پر نور نگر ہے۔اب شمالی حلقہ کی ایک آبادی جو سٹیشن کے پاس ہے اس کا نام کریم نگر