خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 103

*1946 103 خطبات محمود لیڈر تھے جیسے مسٹر گاندھی نٹال کے۔اور دونوں مل کر کام کیا کرتے تھے۔جب ڈاکٹر صاحب مجھے ملے تو انہوں نے بتایا کہ مسٹر گاندھی کئی دفعہ ہمارے گھر آکر ٹھہر تے اور کئی دفعہ ہم ان کے گھر جاکر ٹھہرتے۔ان کے دوسرے بھائی بھی احمدی ہیں لیکن ہمشیرہ احمدی نہیں۔امیر آدمی ہونے کی وجہ سے گزارے سے بے فکر ہیں۔کیونکہ جائیداد کے کرایہ کی آمد انہیں کافی ہو جاتی ہے۔ڈاکٹر صاحب بہت دیر سے احمدی ہیں۔جب میں ولایت گیا تو یہ کچھ دنوں کے لئے اتفاقاً وطن گئے ہوئے تھے۔اس لئے ان سے ملاقات نہ ہو سکی۔اب پہلی دفعہ میں نے ان کی شکل دیکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں اصل میں ساؤتھ افریقہ جارہا تھا اور میں نے وہیں کا پاسپورٹ لیا ہوا تھا۔جب کلکتہ پہنچا تو ارادہ ہوا کہ ہندوستان میں ٹھہر جاؤں۔کیونکہ کلکتہ کی غلاظت دیکھ کر مجھے پر اتنا اثر ہوا کہ میں نے ارادہ کیا کہ کوئی علاقہ تجویز کر کے ہندوستان کے لوگوں کو صفائی کے ساتھ رہنے کی عادت ڈالوں اور ساتھ ہی تبلیغ بھی کروں۔وہ چونکہ پہلی دفعہ یہاں آئے تھے اس لئے ان کو بات آہستگی سے سمجھانی پڑتی تھی۔میں نے کہا اس قسم کے نیک ارادے لے کر یہاں بڑے بڑے پادری آئے لیکن ہم لوگوں کو صفائی سکھاتے سکھاتے وہ خود تھک گئے۔سینکڑوں سال کی عادتیں آہستہ آہستہ ہی بہتی ہیں۔ایک آدمی کس طرح اتنا بڑا کام کر سکتا ہے۔پھر یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ آپ جن لوگوں کو صفائی سکھانا چاہتے ہیں کیا کبھی ان کی معذوریاں بھی آپ نے سوچی ہیں؟ آپ کا ملک مالدار ہے جہاں آپ نے عمر گزاری ہے۔وہ ملک بھی مالدار ہے لیکن ہمارے ملک کا یہ حال ہے کہ فی آدمی ڈیڑھ آنہ روزانہ آمد ہوتی ہے۔کسی کے پاس چار کنال زمین ہے، کسی کے پاس گھماؤں ، کسی کے پاس دو گھماؤں اور کسی کے پاس پانچ چھ سات یا آٹھ گھماؤں۔اور کثرت ایسے لوگوں کی ہے جن کے پاس سات آٹھ گھماؤں سے بھی کم زمین ہے اور وہ بھی پھیلی ہوئی۔کسان بیچارہ صبح چار بجے اٹھتا ہے، سات آٹھ گھنٹے ہل چلاتا ہے، پھر بھینسوں کو نہلاتا ہے، جانوروں کو چارہ ڈالتا ہے۔اور چونکہ اکثروں کے پاس اتنی زمین نہیں ہوتی کہ اس سے چارہ نکال سکیں اس لئے گھر پالے کر باہر نکل جاتے ہیں۔کچھ گھاس سڑک کے اس کنارے سے کاٹا اور کچھ اُدھر سے کاٹا اور پھر کچھ تیسری جگہ سے کاٹا اور کئی گھنٹہ کی محنت کے بعد کچھ گھاس اپنے بیلوں کو لا کر ڈالتے ہیں۔تب ان کے بیل زندہ رہتے ہیں