خطبات محمود (جلد 27) — Page 73
1946ء 73 6 خطبات محمود ہمیں جہادِ صغیر سے ہٹ کر جہاد کبیر کی طرف توجہ کرنی چاہئے )یکم مارچ 1946ء ( تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ رسول کریم صلی الیم جب بھی کسی دشمن کے حملہ کے دفاع کے لئے باہر تشریف لے جاتے اور اُس حملہ کے دفاع سے فارغ ہو کر واپس آتے تو فرماتے ہم چھوٹے جہاد سے فارغ ہو گئے ہیں۔ اب آؤ ہم بڑے جہاد میں مشغول ہوں۔1 حالانکہ وہ جہاد مذہبی تھے مگر چونکہ ان میں ایک دنیوی رنگ پایا جاتا تھا اور گو حقیقتاً مذہب کی خاطر وہ جنگیں تھیں مگر دشمن اپنے سیاسی غلبہ اور سیاسی زور کے حصول کے لئے اسلام کو تباہ کرنا چاہتا تھا اور ادھر اس حملہ کو دور کے کے لئے اسلام کوتباہ چاہتاتھا ادھر اس کو دور کر کے اسلام کو بھی سیاستاً ایک غلبہ حاصل ہوتا تھا اس لئے آپ نے اس جہاد کا نام جہادِ اصغر رکھا۔ لیکن اس کے بالمقابل آپ خالص تبلیغ اور خالص تربیت کو۔ جہادا اکبر قرار دیتے تھے۔ ہماری جماعت کو بھی بعض دفعہ بعض کام ایسے کرنے پڑتے ہیں جو بظاہر دنیوی رنگ رکھتے ہیں۔ گو جس انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت ہو۔ خدا تعالیٰ کی طرف اس کی رغبت ہو وہ اپنی ہر ایک چیز دین کی طرف بدل کر لے جاتا ہے رسول کریم صلی الی یکم فرماتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے میرے شیطان کو بھی مسلمان کر دیا ہے ۔ 2 وہ جو بات بھی مجھے کہتا ہے اسلام ہی کی کہتا دو ہے۔ در حقیقت اس کے معنی یہ تھے کہ جیسے کہتے ہیں ہر که در کان نمک رفت نمک شد 66