خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 60

*1946 60 خطبات محمود جسمانی بچوں کی بقا اور ان کی حفاظت کے لئے اس قدر بیتاب ہو کر خدا تعالیٰ کے حضور جھک گئی تھی تو پھر ہمارا تو یہ فرض اولین ہے کہ ہمارے دلوں میں ایک جوش پیدا ہو اور ہم ان نوجوانوں کے لئے جو دین کے لئے باہر چلے گئے ہیں یا باہر جانے والے ہیں خدا تعالیٰ کے حضور التجا کریں کہ اے ہمارے رب! تو اُن کو صحیح راستہ دکھلا، اُن کے کاموں میں برکت دے، اُن کو کامیابی عطا فرما اور اُن کو فاتح بنا کر واپس لا۔اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے مدد نہ آئی تو ہمارے کام کی مثال ایسی ہی ہو گی جیسے کوئی شخص سارا دن مزدوری کرے اور شام کو اپنی مزدوری دریا میں ڈال دے۔اگر ہم اخلاص کے ساتھ یہ کام کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں ایسی کیفیت پیدا کر دے گا کہ ہمارے دل بولنے لگ جائیں گے اور رات اور دن وہی خیالات ہمارے دلوں میں جاری رہیں گے۔ہم دنیا کے کام کر رہے ہوں گے اور دعائیں ہمارے دلوں سے نکلتی چلی جائیں گی۔ایک بڑھئی اپنی لکڑی چیر رہا ہو گا اور ساتھ ہی اس کے دل سے آواز نکل رہی ہو گی۔کلہاڑی کھٹ کھٹ کر رہی ہو گی اور ساتھ ہی اس کے دل کی آہٹ خدا تعالیٰ کے سامنے پکار پکار کر یہ کہہ رہی ہو گی کہ اے خدا! ہمارے مبلغین کو آرام سے رکھیو اور ان کی مدد اور نصرت فرمائیو۔اور جب ایک طبقہ کی حالت ایسی ہو جائے گی کہ ان کے دل بولنے لگ جائیں گے جیسے صوفیاء کہا کرتے تھے کہ فلاں کا دل بولنے لگ گیا ہے تو ہماری کامیابی یقینی ہے۔بعض لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ دل باتیں کرنے لگ جاتا اور کلمہ پڑھنے لگ جاتا ہے حالانکہ دل بولنے کے یہ معنے نہیں ہوتے بلکہ دل بولنے کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ دل میں سے دعائیں خود بخود پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہیں اور ارادے کا سوال ہی نہیں رہتا۔رات اور دن دل میں ایک فکر پید اہو جاتا ہے اور رات اور دن دل دعا میں لگارہتا ہے۔جب یہ صورت پیدا ہو جائے تو خدا تعالیٰ بندے کے قریب ہو جاتا ہے اور اسی کا نام صوفیاء نے دل کا بولنار کھا ہے۔نادانوں نے دل بولنے کے معنے یہ سمجھ لئے ہیں کہ زبان سے جس طرح آدمی کلام کرتا ہے اسی طرح دل بھی بولنے لگ جاتا ہے مگر یہ معنے نہیں۔جب یہ صورت پیدا ہو جائے گی اُس وقت ہمارے لئے کامیابی بالکل یقینی ہو جائے گی۔مگر ایسی صورت پیدا کرنے کے لئے پہلے زبان سے دعائیں کرنی چاہئیں جو کامیابی کا پہلا قدم ہے۔غرض دوستوں کو اِس طرف خاص طور پر توجہ کرنی چاہئے تاکہ اللہ تعالیٰ