خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 665 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 665

1946ء 665 خطبات محمود تو وہ اُس کو اپنی ٹانگوں پر سہار سکے۔ یہ مثال دراصل مومن کی ہے ورنہ جانور سے کون باتیں کر سکتا ہے ؟ اس قسم کا کام صرف مومن ہی کر سکتا ہے اور باوجو د بظاہر انتہائی کمزور ہونے کے وہ ہر قسم کی قربانی پیش کرتا ہے۔ اور جس طرح مثال میں ایک چھوٹا سا جانور کہتا ہے کہ اگر آسمان گر پڑا تو میں ساری دنیا کو بچالوں گا اور میں اپنی جان کی قربانی پیش کر دوں گا۔ اسی طرح ایک مومن بھی کہتا ہے کہ میں ساری دنیا کو بچانے کے لئے اپنی جان کی قربانی پیش کر دوں گا۔ پس تمہیں چاہئے کہ تم بھی اسی قسم کے مومن بنو کہ ساری دنیا کو بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی جان کی قربانی پیش کرو۔ جب مومن ہر دن اور ہر رات خد اکے سامنے اپنی جان کی قربانی پیش کرتا ہے تب اُس کے راستہ سے ہر قسم کی مشکلات ہٹتی چلی جاتی ہیں اور خدا کا فضل نازل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اور خدا ہر میدان میں اپنے بندے کا ساتھ دیتا ہے اور شیطان کے لشکروں کو شکست ہوتی ہے اور خدا کی طرف سے جو عذاب دنیا پر نازل ہونے والے ہوتے ہیں اور جو تباہی کے سامان دنیا پر وارد ہونے والے ہوتے ہیں وہ سب واپس چلے جاتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ اب میری دنیا مومنوں سے بھر رہی ہے اس لئے اب (الفضل 23 دسمبر 1946ء) میر اعذاب اس پر حرام ہو جائے گا۔“ 1: پیدائش باب 18 آیت 20 تا 33 (مفہوم)