خطبات محمود (جلد 27) — Page 664
*1946 664 خطبات محمود عذاب سے نجات نہ دے گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ بھی منظور ہے۔تب حضرت ابراہیم نے سمجھا کہ اس بستی میں 80 مومن بھی نہیں ہیں۔اسی طرح حضرت ابراہیم 70، 60، 50 اور آخر 10 تک پہنچے۔اور عرض کیا اے خدا! 10 کیا اور 20 کیا۔کیا تو 10 مومنوں کی خاطر ساری بستی کو نہیں بچالے گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔اگر 10 مومن بھی ہوں گے تو میر اعذاب ٹل سکتا ہے۔تب حضرت ابراہیم سمجھ گئے کہ اُس ساری بستی میں سوائے حضرت لوط اور ان کے خاندان کے کوئی بھی مومن نہیں۔پس وہ خاموش ہو گئے اور پھر دعانہ کی۔1 غرض اللہ تعالیٰ تھوڑے نیکوں کی خاطر بہتوں کی جان بھی بچالیا کرتا ہے۔یہ جو میں نے جانور کی آسمان کی طرف ٹانگیں کر کے سونے کی مثال بیان کی ہے ایک جانور بھلا کیا ٹانگیں کھڑی کرے گا؟ یہ تو مومن کی مثال ہے کہ مومن باوجود یکہ بظاہر چھوٹا ہو تا ہے وہ اس عظیم الشان کام کے لئے کمر بستہ ہو جاتا ہے کہ وہ ساری دنیا کو عذاب سے بچائے گا۔کو تاہ اندیش لوگ اُس کے اِن ارادوں کو دیکھ کر اُس کا مذاق اُڑاتے ہیں اور ہنستے ہیں کہ یہ بیچارہ کسی کو کیا بچا سکتا ہے ؟ مگر وہی چھوٹا سا مومن، جس کا لوگ تمسخر اڑاتے ہیں اپنی محنت اور کوششوں کی وجہ سے خدا کے دربار میں کامیاب اور سر خرو ہو کر پیش ہوتا ہے۔دنیا کے لوگوں کو تو یہی عادت ہے کہ وہ مومنوں کے ایسے دعووں کو سن کر ٹھٹھے کرتے ہیں اور بظاہر اس قسم کے دعوے ہوتے بھی عجیب سے ہیں۔حکومت امریکہ کا سالانہ بجٹ ہیں اور تیس ارب کے درمیان ہوتا ہے ، انگلستان کا سالانہ بجٹ پندرہ ارب کا ہوتا ہے اور ہندوستان کی حکومت کا بجٹ چار ارب کے قریب ہوتا ہے اور ان کے مقابلہ میں ہماری جماعت کا سالانہ بجٹ صرف چند لاکھ کا ہوتا ہے۔اور چند لاکھ کے بجٹ کو اربوں کے بجٹ کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں ہو سکتی۔اس لئے جب ہم چند لاکھ روپے سالانہ بجٹ والے اِس قسم کے دعوے کرتے ہیں کہ ہم تمام دنیا کو کفر سے نجات دلائیں گے اور ہم تمام دنیا پر اسلام کا پرچم لہرائیں گے تو اربوں روپے کے بجٹ والی حکومتوں کے لوگ ہماری باتوں کو جنسی مذاق میں ٹال دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ غریب بھلا کیا کر سکتے ہیں ؟ پس ہمارا جو مبلغ اس قسم کا دعویٰ کرتا ہے اُس کی مثال اُس جانور کی سی ہوتی ہے جو رات کو آسمان کی طرف اس لئے ٹانگیں اونچی کر کے سوتا ہے کہ اگر آسمان ٹوٹ پڑے