خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 657 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 657

*1946 657 خطبات محمود اور اس لئے زندہ ہے کہ اس کی جسمانی نسل اب تک قائم ہے ؟ کونسا صحابی ایسا ہے جس کو اس کی اولاد کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے ؟ حتی کہ دنیا میں کوئی نبی بھی ایسا نہیں گزرا جسے اس کی اولاد کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہو بلکہ اُن سب کو صرف اُن کی عدیم المثال قربانیوں کی وجہ سے ہی یاد کیا جاتا ہے۔رسول کریم صلی ال یکم کو ہی دیکھ لو۔کیا ہم آپ کو آپ کی اولاد کی وجہ سے یاد کرتے ہیں؟ ہر گز نہیں۔ہم تو رسول کریم صلی ا لی ہم کو اس لئے یاد کرتے ہیں کہ آپ نے دین کے رستے میں قربانیوں اور اخلاص کی وہ مثال قائم کی جس کی نظیر نہ پہلوں میں اور نہ ہی پچھلوں میں مل سکتی ہے۔پس ہم رسول کریم صلی اللہ ہم کو اس لئے یاد کرتے ہیں کہ آپ نے اسلام کے لئے وہ عملی نمونہ دکھایا جس کی نظیر پیش کرنے سے دنیا قاصر ہے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی کتنی عزت ہمارے دلوں میں ہے مگر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ عزت اُن کی اولاد کی وجہ سے ہے؟ ہم میں سے تو اکثر ایسے ہیں جو جانتے تک نہیں کہ حضرت ابو بکر کی نسل کہاں تک چلی اور ان کی نسل کے حالات ہی محفوظ نہیں ہیں۔آج بہت سے لوگ ایسے موجود ہیں جو اپنے آپ کو حضرت ابو بکر کی اولاد ظاہر کر کے اپنے آپ کو صدیقی کہتے ہیں۔لیکن اگر ان سے کوئی کہے کہ تم قسم کھاؤ کہ واقعی تم صدیقی ہو اور تمہارا سلسلہ نسب حضرت ابو بکر تک پہنچتا ہے ؟ تو وہ ہر گز قسم نہیں کھا سکیں گے۔اور اگر وہ قسم کھا بھی جائیں تو ہم کہیں گے کہ یہ جھوٹ بول رہے ہیں اور بے ایمان ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ حضرت ابو بکر کی نسل کے حالات اتنے محفوظ ہی نہیں ہیں کہ آج کوئی اپنے آپ کو صحیح طور پر اُن کی طرف منسوب کر سکے۔پس ہم حضرت ابو بکر کی عزت اس لئے نہیں کرتے کہ ان کی نسل کا کام عالی شان ہے ، ہم حضرت عمرؓ کی عزت اس لئے نہیں کرتے کہ ان کی نسل کا کام نہایت اعلیٰ پایہ کا ہے ، ہم حضرت عثمان کی عزت اس لئے نہیں کرتے کہ ان کی نسل کا رہائے نمایاں کر رہی ہے اور ہم حضرت علی کو اس لئے نہیں یاد کرتے کہ ان کی نسل میں خاص خوبیاں ہیں۔(حضرت علی کا تو سلسلہ نسب بھی اب تک چل رہا ہے مگر ان کی عزت اس لئے نہیں کی جاتی کہ اُن کی نسل اب تک قائم ہے۔) باقی بھی جتنے صحابہ تھے اُن میں سے کوئی ایک بھی تو ایسا نہیں جسے اُس کی نسل کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہو۔پس حقیقت یہ ہے کہ ہم اُن کو اُن کی ذاتی قربانیوں کی وجہ سے یاد کرتے ہیں اور ان کی عزت کرتے ہیں۔