خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 627 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 627

1946ء 627 خطبات محمود وضاحت کے ساتھ پنڈت نہرو نے یہ تسلیم کیا ہے کہ اب انگریز اپنے ہاتھ کو پہلے کی نسبت مضبوط کر رہے ہیں۔ وجہ خواہ کوئی ہو حقیقت یہ ہے کہ جس طرح آج سے چھ سال پہلے خواب میں بتایا گیا تھا پہلے ہمارے ملک میں یہ رو چلی کہ ہم حاکم ہو گئے ہیں اور دوسری رویہ چلی ہے کہ انگریز اب آزادی کے رستے میں روک بن رہے ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ مسلم لیگ کی اور انگریزوں کی آپس میں کوئی سازش ہو ( یہ بات بالکل غلط ہے کہ مسلم لیگ اور انگریزوں کی کوئی سازش ہے ) لیکن یہ بات درست ہے کہ انگریز اب اس طرح کانگرس کے ہاتھ میں حکومت دینے کو تیار نہیں رہا جس طرح پہلے تھا۔ ہو سکتا ہے کہ ہندوستان کے فسادات کی وجہ سے یہ احساس ان میں پیدا ہو ا ہو کہ ہمارے فیصلے کی وجہ سے ہندوستان میں خون ریزی ہوئی۔ یا اس وجہ سے اس ارادے میں تبدیلی ہوئی کہ کنزرویٹو پارٹی نے یہ اصرار کیا ہے کہ یہ فسادات لیبر پارٹی کی غلطی کی وجہ سے ہیں کہ اس نے یکدم ہندوستانیوں کو حکومت دے دی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ لیبر پارٹی نے یہ خیال کیا ہو کہ اگر ہم نے اس حال میں ہندوستانیوں کے ہاتھ میں حکومت دے دی تو کنزرویٹو پارٹی کے ہاتھ میں ہمارے خلاف پروپیگینڈا کرنے کے لئے ایک ہتھیار آ جائے گا اور اس سے ہماری پارٹی کو نقصان ہو گا۔ اور یا ان کے دلوں میں ندامت پیدا ہوئی ہو کہ ہم نے صحیح فیصلہ نہیں کیا اور ہندوستان میں مسلمانوں کی جانیں محفوظ نہیں۔ اور اگر اب حکومت ہندوستانیوں کے ہاتھ میں دے دی گئی تو ملک میں حالت بدتر ہو جائے گی اور کنزرویٹو پارٹی کو ان کے خلاف لوگوں میں بدظنی پھیلانے کا موقع مل جائے گا۔ بہر حال خواہ اخلاقی لحاظ سے اور خواہ مصلحتی لحاظ سے۔ اب انگریز آزادی دینے کے اتنے شوقین نظر نہیں آتے جتنے وہ پہلے تھے اور اب ایسا نظر آتا ہے کہ انگریز دوبارہ ملک پر قبضہ کر رہے ہیں۔ یہ قبضہ خواہ عارضی ہو یا مستقل ارادہ سے ہو۔ ہو سکتا ہے کہ انہوں نے دیکھا ہو کہ ہندو مسلمان فساد کرتے ہیں۔ اس لئے بہتر ہے کہ ہم خود حکومت کریں تاکہ ان فسادات کی نوبت ہی نہ آئے۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب یہ حالات سدھر جائیں اور لوگوں میں اعتماد پیدا ہو جائے تو وہ حکومت ہندوستانیوں کے سپرد کر دیں۔ یہ ضروری نہیں کہ خواب کی بات ہمیشہ کے لئے چلی جائے۔ ہو سکتا ہے ایک ماہ، دو ماہ یا تین ماہ کے بعد یہ حالت نہ رہے۔ بہر حال موجودہ حالات میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ انگریزوں