خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 53

*1946 53 خطبات محمود نہیں، دریاؤں سے مراد گنگا جمنا یا انڈس نہیں اور ہواؤں سے مراد وہ ہوائیں نہیں جو درختوں کو ہلاتی ہیں بلکہ یہ سب استعارے کا کلام ہے۔مگر استعارہ کے رو سے جو معنے ہواؤں کے ہیں، جو معنے دریاؤں کے ہیں، جو معنے پہاڑوں کے ہیں وہ معنے بھی تو آج پورے نہیں ہو رہے۔وہ کونسا تغیر ہے جو عیسائیت کے ذریعہ دنیا میں ہو رہا ہے؟ عیسائیت نے تو یہ کہہ کر کہ شریعت ایک لعنت ہے ساری شریعتوں کو بیکار قرار دے دیا ہے۔صرف دس احکام بتلائے ہیں مگر کیا اُن دس احکام پر بھی عیسائی عمل کر رہے ہیں ؟ ہم مان لیتے ہیں کہ ایک حصہ کمزور ہوتا ہے جو شرعی احکام پر عمل نہیں کرتا لیکن آخر کچھ حصہ تو اس پر عمل کرتا ہے مگر عیسائیوں میں تو وہ حصہ بھی نہیں ملتا۔اول تو وہ ہیں ہی دس احکام اور پھر ان پر بھی وہ عمل نہیں کر سکتے۔اس کے مقابل پر ایک کمزور سے کمزور مسلمان بھی دن بھر میں پچاس احکام پر عمل کر لیتا ہے حالانکہ بڑے سے بڑا عیسائی حضرت مسیح کے دس احکام پر بھی عمل نہیں کرتا۔پس عیسائیت ہے تو سہی لیکن عیسائیت زندہ نہیں۔اس کی لاش پڑی ہوئی ہے۔اسی طرح حضرت موسیٰ، حضرت زرتشت اور دوسرے انبیاء کی تعلیم پر عمل بالکل مفقود ہے۔پس ہزار ہا سال تک کوئی قوم اور کوئی مذہب زندہ نہیں رہ سکتا، چھلکا رہ جاتا ہے ، فضلہ رہ جاتا ہے مگر حقیقت باقی نہیں رہتی۔میں جب بھی دنیا کی تاریخ پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے کوئی مذہب بھی تین چار سو سال سے زیادہ زندگی والا نظر نہیں آتا۔رسول کریم صلی اللہ ہم نے بھی یہی فرمایا ہے کہ خَيْرُ الْقُرُونِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ فَيْجُ الْأَعْوَج 4 کہ اسلام کی سب سے اچھی صدی پہلی ہو گی۔اس کے بعد دوسری ہو گی اور پھر تیسری صدی ہو گی اس کے بعد بد اخلاق جماعت ہو گی۔رسول کریم ملی لی نام سے بڑھ کر شان والا اور کون آدمی ہو گا مگر آپ کی تعلیم بھی تین چار سو سال تک ہی چلی۔آگے نہیں۔پس جو قوم کا میاب بننا چاہتی ہے اُس کو اِس خیال میں نہیں پڑنا چاہئے کہ اس کے لئے ہزار ہا سال کام کرنے کے لئے پڑے ہیں۔کیونکہ آج تک ہزار سال تک ایک قوم بھی زندہ نہیں رہ سکی اور ہمارے اندر کوئی ایسی خصوصیت نظر نہیں آتی کہ ہم ہزار ہا سال تک مذہب کو زندہ رکھنے کی قابلیت رکھتے ہوں۔ابھی تو مزید تربیت کی ضرورت ہے تاکہ جماعت صحابہ کے مقام تک پہنچے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایسے آدمی ہم کو