خطبات محمود (جلد 27) — Page 594
*1946 594 خطبات محمود اپنے رشتہ دار سے اس کی غلطی کے باوجود ہمدردی رکھتا ہے۔بے شک مجھے ان کے فعل سے ہمدردی نہیں مگر مجھے ان کی ذات سے ہمدردی ہے۔اسی طرح مجھے ہندوؤں کے فعل۔ہمدردی نہیں بلکہ ان کی ذات سے ہمدردی ہے۔جب ہندوؤں نے احمد آباد اور الہ آباد اور بمبئی میں مسلمانوں کو مارا تو یقیناً انہوں نے ظلم کیا اور اب جبکہ ہندو بھاگلپور اور پٹنہ اور چمپارن 3 اور آگرہ اور گیا 4 اور بنارس اور دوسرے مقامات پر مسلمانوں کو مار رہے ہیں وہ یقیناً سخت ظلم کا ارتکاب کر رہے ہیں اور مجھے ان کے فعل سے کوئی ہمدردی نہیں۔اسی طرح مجھے ان مسلمانوں کے فعل سے کوئی ہمدردی نہیں جنہوں نے نوا کھلی میں ہندوؤں کو مارنا شروع کر دیا تھا۔مگر مجھے ان ہندوستانیوں سے ہمدردی ہے جنہوں نے خدا کو بھلا دیا، جنہوں نے مذہب کو بھلا دیا، جنہوں نے انسانیت کو بُھلا دیا۔مجھے ان کے افعال سے ہمدردی نہیں مگر ان کی ذات سے ہمدردی ہے کیونکہ میں سمجھتا ہوں یہ باتیں اسلام اور انسانیت کو سخت بد نام کرنے والی ہیں۔اسی طرح ہند و خواہ اسلام کی تعلیم سے ناواقف ہوں وہ انسانیت کا جامہ پہنے ہوئے ہیں اور وہ ان فرائض کو سمجھتے ہیں جو انسانیت کے لحاظ سے ان پر عائد ہوتے ہیں۔مگر افسوس ہے کہ نہ ہندو قوم کے لیڈر اور نہ عوام الناس اور نہ مسلمان قوم کے بعض لیڈر اس طرف متوجہ ہوئے ہیں کہ وہ اپنی قوم کو ملامت کریں اور انہیں ان ظالمانہ افعال سے مجتنب رہنے کی تعلیم دیں۔مسلمانوں میں سے تو بعض نے بڑی دلیری اور ہمت سے اپنی قوم کو ملامت کی ہے مگر ہندو لیڈروں نے اپنی قوم کو ملامت نہیں کی۔حالانکہ مسلمانوں کا جُرم ہندوؤں کے مقابلہ میں بہت کم ہے۔مسلمانوں کا جرم یہی ہے کہ انہوں نے کمزور ہوتے ہوئے زبر دست کا مقابلہ کیوں کیا اور کیوں اتنی عقل سے کام نہ لیا کہ جب وہ اقلیت میں ہیں تو اکثریت کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔بہر حال یہ وقت ایسا ہے جس میں ہماری جماعت کو بھی اور دوسرے مسلمانوں کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور اس سے دعائیں کرنی چاہئیں کہ وہ ان نازک حالات میں مسلمانوں کی حفاظت فرمائے اور ان کے بچاؤ کا کوئی راستہ پیدا کر دے۔اب وہ کھیل کود کا زمانہ نہیں رہا۔جب چند لاکھ انگریز ہندوستان پر حکومت کر رہا تھا۔اور ہر قوم اسے اس طرح چھیڑ تی تھی جس طرح ایک اجنبی را بگیر کو دیکھ کر بچے اسے اپنے مذاق کا نشانہ بنا لیتے ہیں۔کوئی اس کی