خطبات محمود (جلد 27) — Page 580
*1946 580 خطبات محمود تمہارے دلوں میں بھی اسلام کا درد ہوتا تو کیا تمہاری یہی حالت ہوتی ؟ یہ تو درد کے نہ ہونے کی علامت ہے کہ تم دو دو سال تک خاموش بیٹھے رہتے ہو اور تمہارے اندر کوئی حرکت پیدا نہیں ہوتی۔یہ علامت ہے اس بات کی کہ تمہارے اندر اسلام کا درد نہیں۔تمہارے اندر اسلام کا دکھ کوئی دکھ پیدا نہیں کرتا۔افیونی کی طرح دو تین سال کے بعد تم آنکھ اُٹھا کر کہہ دیتے ہو کہ ہمارے علاقہ کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا۔تمہارے علاقہ کی طرف کون توجہ کرے جبکہ خود تمہیں اپنے علاقہ کی اصلاح کا احساس نہیں۔اگر تمہیں اپنی اصلاح کا آپ خیال ہو تا تو کیا تم اسی طرح بیٹھے رہتے ؟ تم رو رو کر مر نہ جاتے کہ ہمار ابراحال ہو رہا ہے اور ہمیں کوئی پوچھ نہیں رہا۔کیا ایسی حالت میں تم قادیان آکر بیٹھ نہ جاتے اور تم یہ نہ کہتے کہ ہم یہاں سے ہلیں گے نہیں جب تک ہماری طرف توجہ نہ کی جائے۔تمہاری حالت تو بالکل ایسی ہی ہے جیسے قصہ مشہور ہے کہ ایک سپاہی چھٹی سے واپس جارہا تھا کہ راہ چلتے اُس کے کانوں میں آواز آئی۔میاں سپاہی ! میاں سپاہی ! خدا کے لئے بات سنا بڑا ضروری کام ہے۔وہ سو دو سو گز پرے جا رہا تھا۔اُس نے جب یہ آواز سنی تو وہ رستہ چھوڑ کر گیا کہ دیکھے کیا بات ہے۔جب وہاں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ دو آدمی لیٹے ہوئے ہیں ان میں سے ایک نے سپاہی کو مخاطب کر کے کہا۔میاں سپاہی! میں نے تمہیں اس لئے بلایا ہے کہ میری چھاتی پر جو بیر پڑا ہے اسے اٹھا کر میرے منہ میں ڈال دو۔سپاہی کو یہ سن کر سخت غصہ آیا۔سپاہیوں کے اخلاق یوں بھی حکومت کی وجہ سے گر جاتے ہیں۔وہ گالیاں دے کر کہنے لگا بیوقوف! میں نہایت ضروری کام کے لئے جا رہا تھا۔کیا تجھ سے اتنا بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ ہاتھ سے بیر اٹھا کر منہ میں ڈال لیتا؟ جب اس نے یہ بات کہی تو اس کا دوسر اسا تھی جو لیٹا ہوا تھا اس نے کہا میاں سپاہی ! جانے بھی دو یہ بھی کوئی انسان ہے، ساری رات کتا میر امنہ چاھتا رہا مگر اس کمبخت سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ اُسے ہشت ہی کر دے۔یہی اِن لوگوں کا حال ہے۔کہتے ہیں دو سال سے ہماری طرف کوئی آدمی نہیں آیا۔اگر دو سال سے تمہاری طرف کوئی آدمی نہیں گیا تھا تو تم خود قادیان کیوں نہ آگئے۔تمہار اچپ کر جانا اور تمہارا اس کے بعد کوئی حرکت نہ کرنا بتاتا ہے کہ تم مُردہ ہو اور جو خود مُردہ ہو وہ دوسروں پر کیا الزام عائد کر سکتا ہے۔