خطبات محمود (جلد 27) — Page 571
*1946 571 خطبات محمود سب سے بڑی علامت یہ ہوتی ہے کہ انسان دیوانہ وار دوسروں کو بھی ایمان کے حصہ میں شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ چونکہ میرا عقیدہ یہ ہے کہ احمدیت سچی ہے اس لئے میرا ایمان بھی پختہ ہے اور وہ یہ نہیں دیکھتا کہ اس کے ایمان کا پھل کیا پیدا ہوا ہے۔وہ نادان اور احمق انسان میستی کی طرح ایک خیالی جنت میں آباد ہوتا ہے۔اس کا ایمان محض وہم اور اس کا ظاہر محض ملمع ہوتا ہے۔اگر واقع میں اُس کے دل کے اندر ایمان ہوتا تو وَ أَما بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَيَّات کے ماتحت وہ پاگل ہو کر چاروں طرف دوڑتا پھر تا اور لوگوں کو بتاتا کہ اسے کتنی بڑی دولت ملی ہے۔کتنی بڑی نعمت ہے جس سے لوگ محروم ہورہے ہیں۔پس ہماری جماعت کو تبلیغ پر بے انتہا زور دینا چاہئے۔جب تک ہماری جماعت کے افراد میں یہ جذبہ پیدا نہیں ہوتا تم یقین کر لو کہ اس وقت تک ان کا ایمان بھی پختہ نہیں ہو سکتا۔تم میں سے جتنا کسی شخص کے دل میں یہ جذبہ موجود ہے کہ احمدیت جلد سے جلد پھیلے اور جس قدر زیادہ کوششیں وہ اس غرض کے لئے کرتا ہے اتنا ہی اس کا ایمان پختہ ہے اور اس جذبہ میں کمی ہے اتنی ہی اس کے ایمان میں کمی ہے۔مگر جذبہ سے میری مراد محض خیالات یا خواہشات نہیں بلکہ جذبہ سے میری مراد عملی کوشش ہے۔اگر ہماری جماعت کے افراد رات اور دن دیوانوں کی طرح دین پھیلانے کے لئے مشغول رہتے ہیں، اگر وہ دفتر کا بھی کام کرتے ہیں تو دفتر سے فارغ ہوتے ہی کہتے ہیں ہم نے دنیا کا کام کر لیا آؤ اب ہم دین کا کام کریں اور وہ تبلیغ میں مشغول ہو جاتے ہیں، اگر وہ دکان پر کام کرتے ہیں تو دکان سے واپس آتے ہی کہتے ہیں چھ سات گھنٹے ہم نے دنیا کا کام کر لیا آؤ اب خدا کا نام بلند کریں اور لوگوں کو تبلیغ کریں، اگر وہ دس گیارہ مہینے مسلسل دنیوی مشاغل میں مشغول رہتے ہیں تو کہتے ہیں گیارہ ماہ تو ہم نے دنیا کے لئے صرف کر دئے آؤ اب ایک ماہ ہم دین کے لئے وقف کر دیں۔اگر وہ ایسا کرتے ہیں تب تو انہیں سمجھنا چاہئے کہ ان کا ایمان سلامت ہے۔لیکن اگر اس قربانی کا ان میں احساس نہیں، اگر تبلیغ کا نام سن کر وہ ڈر جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اگر ہم تبلیغ کے لئے گئے تو ہماری تجارتیں ٹوٹ جائیں گی، ہماری نوکریاں جاتی رہیں گی، ہماری آمدنیوں میں کمی واقع ہو جائے گی تو پھر انہیں یاد رکھنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو لوگ ایسا کرتے ہیں ان کے اندر