خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 570 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 570

خطبات محمود 570 *1946 فارسی کی ایک حکایت ہے کہ ایک عورت جس کا نام میستی تھا، اس کی بیٹی بیمار ہو گئی اور روز بروز اس کی بیماری بڑھتی چلی گئی۔وہ روزانہ رات کو اٹھ کر اس کے لئے دعائیں کیا کرتی مگر جب اس نے دیکھا کہ اس کی بیماری کسی طرح کم ہونے میں نہیں آرہی اور موت قریب آرہی ہے تو اس نے یہ دعائیں مانگنی شروع کر دیں کہ خدایا ! تو نے اگر مارنا ہی ہے تو مجھے مار دے، میری بیٹی کو کچھ نہ کہہ۔وہ روزانہ ایسا ہی کرتی اور روزانہ یہ دعائیں کرتی کہ خدایا! ملک الموت آئے تو میری طرف آئے، میری بیٹی کی طرف نہ جائے۔اتفاقاً ایک رات اس کی گائے کھلی رہ گئی اور اس نے صحن میں اِدھر اُدھر چکر کاٹنا شروع کر دیا۔ایک جگہ گھڑے میں بھوسہ پڑا تھا۔اس نے بھوسہ کھانے کے لئے گھڑے میں منہ ڈال دیا مگر جب سر نکالنے لگی تو سر پھنس گیا اور نکل نہ سکا۔گائے کے لئے چونکہ یہ بالکل الگ بات تھی وہ گھبراگئی اور اسی گھبراہٹ میں اس نے سر اٹھایا تو گھڑا بھی ساتھ ہی اٹھ آیا اور اس نے ادھر اُدھر دوڑنا شروع کر دیا۔شور کی آواز سن کر اس عورت کی بھی آنکھ کھل گئی۔اس نے جب دیکھا کہ رات کے وقت ایک چیز صحن میں پھر رہی ہے، اُس کا سر بہت بڑا ہے تو اس نے خیال کیا کہ وہ جو میں رات بھر دعائیں کیا کرتی تھی کہ خدایا! عزرائیل میری جان قبض کرلے وہ دعا قبول ہو گئی ہے اور یہ عزرائیل میری جان نکالنے کے لئے آ رہا ہے۔اس خیال کے آتے ہی اس کے ہوش اُڑ گئے اور اس نے اپنی لڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ملک الموت من نه میستی ام من یکے پیر زال محنتی ام ملک الموت میں میستی نہیں۔وہ میستی جو روزانہ دعائیں کیا کرتی تھی وہ اپنی بیٹی کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگی کہ وہ لیٹی ہے۔اگر جان نکالنی ہے تو اس کی نکال لے۔اب دیکھو وہ راتوں کو دعائیں بھی کرتی تھی، گریہ زاری بھی کرتی تھی، یہ بھی کہتی تھی آعزرائیل! میری جان نکال لے ، میری بیٹی کی نہ نکالے۔مگر اسے اپنے دل کا حال معلوم نہیں تھا کہ اس میں بیٹی کی کتنی محبت ہے۔اسی طرح ہزاروں ہزار انسان ایسے ہوتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ان کے دلوں میں ایمان ہے مگر در حقیقت ان کے دلوں میں ایمان نہیں ہو تا۔پھر ایمان کی شناخت کا کیا ذریعہ ہے؟ ایمان کی شناخت اُس کی علامات کے ذریعہ ہوتی ہے۔اور ایمان کی شناخت کی