خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 556 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 556

1946ء 556 40 خطبات محمود اپنے اندر ایمان اور جوش پیدا کرو ) فرموده یکم نومبر 1946ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جس قدر مامور دنیا میں آتے ہیں اُن کی آمد کی بڑی غرض یہی ہوا کرتی ہے کہ وہ لوگوں کو پراگندگی اور اختلاف کے مرض سے بچاتے ہوئے پھر خدائے واحد کے دروازہ پر لاکھڑا کریں اور یہی غرض ان کی جماعتوں کی ہوا کرتی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انفرادی طور پر انسان کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی اصلاح کرے۔ لیکن یہ امر کسی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس پر یہ فرض بھی عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنی اصلاح کے علاوہ دنیا کے دوسرے لوگوں کو بھی زیادہ سے زیادہ ہدایت کی طرف لائے اور ان کو دین واحد پر جمع کرے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو متواتر الہاموں اور کشوف اور رویا میں بتایا گیا ہے کہ آپ کا اور آپ کی جماعت کا یہ فرض ہے کہ بنی نوع انسان کو دین واحد پر جمع کریں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دین واحد پر جمع کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔ جن لوگوں کو ہم نے دین واحد پر جمع کرنا ہے وہ اپنے آپ کو ہر رنگ میں ہم سے اعلیٰ اور بلند شان رکھنے والا سمجھتے ہیں اور جہاں تک دنیوی نگاہ کام کرتی ہے وہ ہم سے واقع میں بلند شان رکھتے ہیں۔ یعنی حکومتیں ان کے پاس ہیں، جماعتیں اُن کے پاس ہیں، روپیہ ان کے پاس ہے، زمینیں ان کے پاس ہیں، پیشے ان کے پاس ہیں ، صنعت و حرفت اُن کے پاس ہے، تعلیم اُن کے پاس ہے، اقتصاد کی کنجی ان کے پاس ہے۔ غرض کوئی بھی ایسی چیز نہیں جو دنیا میں کسی کو بڑائی دینے کا موجب ہوتی ہو اور