خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 551 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 551

1946ء 551 خطبات محمود اس سے سبق حاصل کرنا چاہئے اور پہلے سے بھی زیادہ زور کے ساتھ اس تحریک کو زندہ کرنا چاہئے۔ دوسرے لوگوں کا اِس تحریک پر عمل ہماری جماعت کے لئے ایسا ہی ہے جیسے کسی کے منہ پر چپیڑ مار دی جائے۔ اگر ہماری جماعت نے اس تحریک پر عمل نہ کیا اور دوسرے لوگ عمل کر کے اسکے فوائد سے متمتع ہو گئے تو یہ ایک نہایت ہی افسوس ناک بات ہو گی اور دنیا یہ کہنے پر مجبور ہو گی کہ جس جماعت کو اس کے امام نے یہ ہدایات دی تھیں اس نے تو اس پر عمل نہ کیا اور غیروں نے اس پر عمل کر کے فائدہ اٹھا لیا۔ حالانکہ ہماری شریعت کا حکم ہے كَلِمَةُ الْحِكْمَةِ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ أَخَذَهَا حَيْثُ وَجَدَهَا 7 حکمت کی بات مومن کی گم شده متاع ہوتی ہے۔ جہاں سے بھی اسے ملتی ہے وہ فوراً اسے اٹھا لیتا ہے۔ پس ہمارا کام تو یہ ہونا چاہئے کہ اگر ہم کسی دوسرے کے منہ سے بھی حکمت کی کوئی بات سنیں تو اُس کو فوراً اٹھا لیں۔ کجا یہ کہ ہماری چیز دوسرے لوگ اٹھا لیں اور ہم اس سے فائدہ نہ اٹھائیں۔ پس اس خطبہ کے ذریعے میں ایک دفعہ پھر جماعت کو تحریک جدید کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ اسے چاہئے کہ وہ اپنی سستی اور غفلت کو دور کرے اور اپنے اعمال کا جائزہ لے کر غور کرے کہ وہ تحریک جدید کے اصول پر کس حد تک عمل کر رہی ہے۔ جماعتوں میں ہر جگہ تحریک جدید کے سیکرٹری مقرر ہیں۔ مگر اُن کا کام صرف یہ نہیں کہ لوگوں سے چندہ وصول کریں بلکہ اُن کا یہ بھی کام ہے کہ وہ تحریک جدید کی سکیم پر لوگوں کو عمل کرنے کی تحریک کریں۔ میں نے گزشتہ عرصہ میں نہایت افسوس کے ساتھ یہ بات دیکھی ہے کہ صدر انجمن احمد یہ کی شاخیں تحریک جدید کے ساتھ رقابت رکھتی ہیں اور بجائے اس کے کہ وہ تحریک جدید کے پروگرام کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں وہ اس کے رستہ میں روک بن کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ مگر خدا تعالیٰ کے حضور صدر انجمن احمد یہ کا نام پیش نہیں ہو گا، خدا تعالیٰ کے حضور تحریک جدید کا نام پیش نہیں ہو گا، خدا تعالیٰ کے حضور یہ نہیں دیکھا جائے کہ کون سیکرٹری اور کون پریذیڈنٹ تھا۔ خدا تعالیٰ تو یہ دیکھے گا کہ جماعت نے اس سکیم کو کامیاب کرنے کی کوشش کی یا نہیں جو اس کے امام نے اس کے سامنے رکھی تھی۔ اگر جماعت نے اپنے فرض کو نہیں پہچانا