خطبات محمود (جلد 27) — Page 539
*1946 539 خطبات محمود رکھا ہو لیکن دیا اس کو ایک پیسہ نہ ہو۔اگر یہ بات تسلیم کی جائے تو اس سے خدا تعالیٰ پر الزام عائد ہوتا ہے کہ اس نے ایک شخص کے جسم میں بیماری تو پیدا کر دی جس کا علاج سو روپیہ کے ٹیکوں کے سوا اور کسی طرح نہیں ہو سکتا تھا مگر اسے علاج کے لئے ایک پیسہ بھی نہ دیا۔بہر حال دو صورتوں میں سے ایک صورت ہمیں ضرور تسلیم کرنی پڑے گی۔یا تو ہمیں یہ کہنا پڑے گا کہ ڈاکٹر جھوٹا ہے اور یا ہمیں یہ کہنا پڑے گا کہ نَعُوذُ بِاللہ خدا تعالیٰ ظالم ہے۔اب ڈاکٹر خود ہی سمجھ لیں کہ وہ ان دونوں میں سے کس بات کو درست تسلیم کرنے کی ہم سے امید کر سکتے ہیں۔کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ پر الزام لگائیں گے یا ان کو غلطی پر سمجھیں گے۔یہ ظاہر بات ہے کہ خدا تعالیٰ پر الزام عائد نہیں کیا جا سکتا اس لئے ہمیں یہی کہنا پڑے گا کہ وہ ڈاکٹر غلطی پر ہیں جو قیمتی دواؤں کے سوا اور کوئی علاج ہی نہیں بتا سکتے۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ مجھ پر ایسا دور بھی آیا ہے جب کہ میں صرف جڑی بوٹیوں سے لوگوں کا علاج کیا کرتا تھا۔مریض آتا تو میں اسے کہہ دیتا کہ اس اس شکل کی ایک بوٹی ہوتی ہے کل اُسے توڑ لانا تمہارا علاج ہو جائے گا۔وہ توڑ لاتا اور اسی بُوٹی سے اس کے مرض کا علاج کر دیا جاتا۔آپ فرمایا کرتے تھے ہم نے سالہا سال تک اس کا تجربہ کیا اور ہمیں کبھی بھی کسی اور دوا کی ضرورت پیش نہیں آئی۔اسی طرح آپ کو شوق تھا کہ دواؤں پر کم سے کم خرچ آئے۔چنانچہ ایک لمبے تجربہ کے بعد آپ نے دواؤں کی ایک ایسی لسٹ تیار کر لی تھی جو چند پیسوں میں تیار ہو جاتی تھیں اور بہت سے امراض میں کام آیا کرتی تھیں۔یہی وجہ ہے کہ آپ دوائی ہمیشہ مفت دیا کرتے تھے۔ڈاکٹروں کا عام طور پر یہ دستور ہوتا ہے کہ وہ نسخہ لکھ کر اپنے دواخانہ میں بھجوا دیتے ہیں اور دواخانہ والے جس قدر نفع چاہیں لے لیتے ہیں۔مگر آپ ہمیشہ اپنے مطب میں دوائیں تیار کر کے رکھا کرتے تھے۔مریض کو نسخہ لکھ دیتے اور وہ آپ کے دواخانہ سے مفت دوالے لیتا۔شاذ و نادر کے طور پر آپ بعض لوگوں کو زائد دوائیں بھی لکھ دیتے تھے۔مثلاً جو شاندہ وغیرہ جس کی اشیاء مریض کو بازار سے خریدنی پڑتی تھیں مگر وہ بھی اتنا ستا نسخہ لکھتے تھے کہ مریض پر ذرا بھی بوجھ نہیں پڑتا تھا۔مگر اس زمانہ میں عام طور پر ڈاکٹر بھی اور اب ڈاکٹروں کی اتباع میں اطباء بھی ایسے ایسے نسخے لکھتے ہیں جو نہایت گراں خرچ پر تیار