خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 533 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 533

*1946 533 خطبات محمود گویا لالچ بھی دی تو اتنی چھوٹی اور حقیر کہ چوہڑے بھی اس کو قبول نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ یہ کیا لغو بات ہے کہ تم نے خود لڑائی چھیڑی ہے ہم نے نہیں چھیڑی۔اب اس کا فیصلہ میدان میں ہی ہو گا اور ہم جانتے ہیں کہ ہم ضرور کامیاب ہوں گے کیونکہ ہمارے ساتھ خدا تعالی کا وعدہ ہے۔بادشاہ کو غصہ آیا اور اس نے ایک شخص سے کہا۔ایک تھیلی میں مٹی بھر کر لاؤ۔جب وہ مٹی بھر کر لایا تو اس نے اسے حکم دیا کہ یہ مٹی کا بورا اس مسلمان افسر کے سر پر رکھ دو۔اس صحابی نے جب یہ دیکھا تو اس نے نہایت خاموشی سے اپنا سر جھکایا اور مٹی کا بورا اپنے سر پر اٹھا لیا۔بادشاہ نے اسے کہا اب جاؤ اس کے سوا تمہیں اور کچھ نہیں مل سکتا۔گویا جیسے پنجابی میں کہتے ہیں کھیہہ کھاؤ۔اردو میں یوں کہہ لو کہ تمہارے سر پر خاک۔ویسا ہی اس بادشاہ نے کیا اور مٹی کا بورا مسلمان افسر کے سر پر لادتے ہوئے کہا۔جاؤ اس کے سوا تمہیں اور کچھ نہیں مل سکتا۔ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ مومن کو بھی اپنے فضل سے ایک نور اور روشنی بخش دیتا ہے۔جب اس نے مٹی کا بورا مسلمان افسر کے سر پر رکھوایا تو انہوں نے فوراً اس کو نیک تفاول پر محمول کرتے ہوئے اٹھالیا اور اپنے ساتھیوں کو یہ کہتے ہوئے دربار سے نکل بھاگے کہ آجاؤ ایران کے بادشاہ نے خود اپنے ہاتھ سے ایران کی زمین ہمیں سونپ دی ہے۔مشرک بزدل بھی بڑا ہوتا ہے۔جب انہوں نے بلند آواز سے یہ فقرہ کہا تو اس نے گھبر اکر اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ یہ شخص کیا کہہ رہا ہے۔انہوں نے کہا اس نے کہا ہے۔کسری نے ایران کی زمین خود اپنے ہاتھ سے ہمارے سپرد کر دی ہے۔یہ سن کر بادشاہ گھبر ا گیا اور اس نے کہا جلدی جاؤ اور اس شخص کو پکڑ کر حاضر کرو مگر اتنے میں مسلمان گھوڑے پر سوار ہو کر کہیں کے کہیں جاچکے تھے۔1 گاندھی جی نے بھی کہا کہ میں تو کچھ نہیں کر سکتا جو کچھ کر سکتے ہیں آپ ہی کر سکتے ہیں اور خد اتعالیٰ نے ایسا ہی کر دیا اور میرے وہاں ہونے کی وجہ سے ہی جھگڑے کا تفصیہ ہو ا۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ تصفیہ میں نے کیا۔گو ہم برابر کوشش کر رہے تھے۔مگر سوال یہ ہے کہ پہلے چار پانچ دفعہ صلح کی کوشش ہو چکی تھی۔گورنمنٹ نے بھی زور لگایا مگر اس معاملہ کا کوئی تصفیہ نہ ہوا۔آخر میرے وہاں ہونے اور دعائیں کرنے سے نہ معلوم کونسے دلوں کی کنجیاں کھول دی گئیں کہ میرے وہاں جانے سے وہ کام جو پہلے بار بار کی کوششوں کے باوجو د نہیں ہوا