خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 514 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 514

*1946 514 خطبات محمود یہودیوں سے معاہدہ تو کر لیا ہے لیکن اگر وہ مسلمانوں سے ڈر کر تم سے غداری کریں اور اپنے قلعوں میں سے تم کو راستہ نہ دیں تو پھر کیا کرو گے؟ اور اگر وہ یہ کہیں کہ ہمیں اپنے آدمی یر غمال کے طور پر دو تب اعتبار کریں گے اور پھر دھوکا کر جائیں تو آپ لوگوں کا کیا زور چلے گا؟ اُنہوں نے کہا ہم ایسا کبھی نہ کریں گے۔اگر انہوں نے پر عمال مانگی تو ہم سمجھ لیں گے کہ وہ شرارت پر آمادہ ہیں اور ہم کل ہی حملہ کا فیصلہ کر کے انہیں اپنی مدد کے لئے بلاتے ہیں دیکھیں ! وہ کیا کہتے ہیں۔اس طرح تشقی کر کے وہ تو مسلم اپنے خیمہ میں اطمینان سے چلے گئے۔دوسرے دن کفار کے لشکر کے سرداروں نے یہودیوں کو پیغام بھجوایا کہ ہم اب فوری طور پر حملہ کرنا چاہتے ہیں تم لوگ بھی تیاری کر کے ہمارے ساتھ آملو تا کہ یکدم حملہ کر کے مسلمانوں کو ختم کر دیں۔یہودیوں نے ان کو جواب بھیجا کہ ہمیں شبہ ہے کہ ایسا نہ ہو تم حملہ کرنے کے بعد بھاگ جاؤ یا مسلمانوں سے صلح کر لو اس لئے تم ستر آدمی بطور یر غمال کے ہمارے پاس بھیج دو۔قبائل کے سر دار یہو دیوں کا یہ جواب سن کر سمجھ گئے کہ یہودی کوئی شرارت کرنا چاہتے ہیں اور ان کے ذہن اس شبہ کی طرف منتقل ہو گئے جو اس صحابی نے بیان کیا تھا۔اُنہوں نے یہودیوں کو جواب دیا کہ اگر سیدھی طرح مدد کرنی ہے تو کرو ہم اپنے آدمی دے کر اپنے ہاتھ نہیں کٹوانا چاہتے۔سارا دن یہ جھگڑا رہا۔آخر دونوں فریقوں میں بدمزگی پیدا ہو گئی اور بد مزگی کی وجہ سے ان کے دلوں میں بزدلی پیدا ہو گئی۔10 ان قبائل میں یہ رواج تھا کہ رات کو تمام قبیلے اپنی اپنی آگ جلا کر رکھتے تھے۔اگر تمام رات ان کی آگ جلتی رہتی تو وہ سمجھتے کہ آج کا دن مبارک ہے اور ہمارا دیوتا ہم پر خوش ہے۔لیکن جس دن کسی قبیلہ کی آگ بجھ جاتی وہ قبیلہ سمجھتا کہ آج ہمارا دن منحوس ہے اور ہمارے لئے کوئی مصیبت لائے گا۔خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اُسی رات ایک قبیلہ کی آگ بجھ گئی۔انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ آج کا دن ہمارے لئے مبارک نہیں اس لئے آج ہمیں اپنے خیمے اکھاڑ کر ایک دن کی منزل پر پیچھے چلے جانا چاہئے دوسرے دن پھر واپس آ جائیں گے۔چونکہ سارا دن یہ باتیں ہوتی رہی تھیں کہ یہودیوں کی نیت خراب ہے اور وہ مسلمانوں سے مل کر حملہ کرنا چاہتے ہیں تو جب اس قبیلہ نے اپنے خیمے اکھاڑنے شروع کئے تو ہمسایہ قبائل نے یہ سمجھا کہ شاید یہودیوں نے مسلمانوں سے مل کر شبخون مارا ہے۔اس طرح