خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 513 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 513

1946ء 513 خطبات محمود سب سے زیادہ اُن کے لئے تکلیف دہ تھی وہ یہ تھی کہ دشمن رسول کریم صلی علیم پر حملہ کرنے رض میں کامیاب نہ ہو جائے۔ جہاں تک قربانی کا سوال ہے بعض دفعہ آٹھ دس صحابہ نے ہزار ہزار کا سة صد علی علیہم امن میں مقابلہ کیا ہے لیکن وہ اتنے متفکر نہ ہوتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ رسول کریم صلی الله ما صا الله سلم علیرم ہیں لیکن اب مسلمان اس بات سے پریشان تھے کہ ہم تو مر جائیں گے لیکن رسول کریم صلی الی یوم کی کون حفاظت کرے گا۔ پس انہیں اپنی جانوں کا ڈر نہ تھا بلکہ انہیں رسول کریم صلی علیم کے متعلق خطرہ تھا کہ دشمن کہیں آپ کو نقصان نہ پہنچادے۔ میور جیسا متعصب مؤرخ بھی یہ لکھنے پر مجبور ہوا ہے کہ جب کفار نے حملہ کر کے رسول کریم صلی الم تک پہنچنے کی کوشش کی تو مٹھی بھر مسلمانوں نے اس طرح اپنی جانیں قربان کیں کہ دشمن کو باوجود کثیر التعداد ہونے کے پسپا ہونا پڑا ۔ ان خطرناک حالات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس سے یہ سامان کیا کہ ان سترہ ہزار آدمیوں میں سے ایک آدمی آدمی ۔ کے دل پر اسلام کی حقیقت گھل کھل گئی گئی اور اور وہ رات کو چوری چوری رسول کریم صلی علیم کے پاس پہنچا اور اسلام لایا۔ اسلام لانے کے بعد اس نے عرض کیا۔ یا رَسُولَ الله ! آپ مجھے کوئی کام بتائیں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ لشکر اگر شرارت سے باز آجائے تو بہت اچھا ہے۔ تم اس کے لئے کوشش کرو۔ وہ آدمی بہت ذہین تھا۔ وہ نہایت ہو شیاری کے ساتھ یہودیوں کے پاس پہنچا۔ چونکہ وہ یہودیوں کا دوست تھا اِس لئے اُنہیں اس پر بہت اعتماد تھا۔ وہ یہودیوں سے کہنے لگا میں تمہارا دوست ہوں اور تمہارا خیر خواہ ہونے کی حیثیت سے میں تمہیں ہوشیار کرتا ہوں کہ اگر باہر سے آنے والے لشکروں نے واپسی کا فیصلہ کر لیا تو تم مشکلات میں پھنس جاؤ گے اور مسلمان تم کو سخت سزا دیں گے۔ اگر لڑائی نے ذرا بھی خطرناک صورت اختیار کی تو باہر سے آئے ہوئے لشکر اپنی جان بھاگ کر بچائیں گے ۔ اس وقت تم کیا کرو گے ؟ یہودیوں نے ان سے پوچھا آپ ہی بتائیں ہم کیا تدبیر کریں کہ جس سے ہماری تسلی ہو جائے۔ اس نے کہا کہ تم باہر سے آنے والے قبائل کے سامنے یہ مطالبہ رکھو کہ وہ ستر آدمی بطور یر غمال کے دیں تا کہ وہ نہ ہی صلح کر سکیں اور نہ اپنے آدمیوں کو چھوڑ کر بھاگ سکیں۔ اُس کی یہ تجویز سن کر یہودی بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت اچھی تدبیر ہے ہم ایسا ہی کریں گے۔ وہاں سے اٹھ کر وہ شخص اپنی قوم کے پاس آیا اور کہا کہ تم نے