خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 484 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 484

*1946 484 خطبات محمود ہو جاتی ہے؟ اور صرف نام دے دینے کی وجہ سے ان سے کوئی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ؟ اسی طرح کے وہ لوگ ہیں جو اپنے نام ایک مذہب کے مطابق رکھ لیتے ہیں۔مگر حقیقتا اس مذہب کی کوئی بات ان میں نہیں پائی جاتی اور انہیں اس مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہو تا۔اصل نام رکھنے والے وہ لوگ ہیں کہ جس مذہب کی طرف وہ منسوب ہوتے ہیں اُس کا نمونہ پورے طور پر ان میں موجود ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تَبرَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَان بڑی برکتوں والا ہے وہ خدا جس نے حق اور باطل میں تمیز کرنے والا کلام نازل کیا کہ کس طرح ایک ایک چیز میں حقیقت اور سنجیدگی پائی جاتی ہے۔بے شک دنیا کے لوگ بھی سوچ بچار کے بعد کچھ اصول مقرر کرتے ہیں اور پھر انہیں دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔لیکن ان کے الفاظ مبہم اور غیر معین ہوتے ہیں۔ان میں حقیقت کچھ بھی نہیں ہوتی۔محض وہ اخلاقی فارمولے ہوتے ہیں جو وہ لوگ اپنی عقل و فہم کے زور سے بنا کر دنیا کے سامنے پیش کر دیتے ہیں لیکن چونکہ ان کے ساتھ نمونہ نہیں ہو تا اس لئے دنیا اُن پر عمل کرنے سے گریز کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمام برکتوں کا مالک خدا ہے۔یہ صرف منہ کا دعویٰ نہیں بلکہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ نَزِّل الفرقان کہ اُس نے فرقان کو نازل کیا ہے اور ایسا کلام نازل کیا ہے جس کا ایک ایک لفظ حق و باطل میں فرق کر کے دکھلاتا ہے۔وہ کلام ایسا نہیں کہ وہ چند اچھے اچھے الفاظ پر مشتمل ہو لیکن حقیقت سے خالی ہو یا شاعرانہ طور پر اسے بنالیا گیا ہو بلکہ وہ کلام ایسا ہے کہ اس کا لفظ لفظ حق و باطل میں امتیاز کر دیتا ہے اور بے شمار حقائق و معارف پر مشتمل ہے۔وہ کلام ایسا نہیں کہ اس کی عبارت پست 2 ہو اور اس کے الفاظ غیر معین ہوں اور اپنے اندر کوئی معنے نہ رکھتے ہوں بلکہ وہ کلام فرقان ہے جو ہر ایک چیز کی حقیقت کو واضح کر دیتا ہے۔صرف الفاظ کبھی بھی انسان کی تسلی نہیں کر سکتے۔کچھ عرصہ ہوا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں صرف یہ کہہ کر کہ ہم ہندوستانی بھائی بھائی ہیں اور بھائیوں کو آپس میں صلح سے رہنا چاہئے آپس میں صلح کرادی گئی اور اصل حقیقت کو پس پشت ڈال دیا گیا۔اُس وقت میں نے کہا تھا کہ اس صلح کے نتائج خطر ناک ہوں گے۔وقتی طور پر صلح صلح کی آواز بلند کرنے سے لوگ لڑائیاں چھوڑ دیتے ہیں لیکن جب تک بنیادی چیزوں کو اور اصل وجہ کو دور نہ کیا جائے اُس وقت تک جھگڑے دور نہیں ہو سکتے۔اور جب تک