خطبات محمود (جلد 27) — Page 483
خطبات محمود 483 *1946 یعنی نارنگی جو کہ ایک خوشنمارنگ رکھتی ہے اس کو نارنگی کہتے ہیں یعنی اس کا کوئی رنگ نہیں حالانکہ اس کا رنگ ہوتا ہے۔اور دودھ جب بن جاتا ہے تو اسے کھویا کہتے ہیں حالانکہ کھوئی ہوئی چیز وہ ہوتی ہے جو گم ہو جائے اور اس کا نام و نشان نہ ملے۔اسی طرح جو چیز چلتی ہے اس کو گاڑی کہتے ہیں حالانکہ گاڑی اسی چیز کو کہنا چاہیے جو ہل نہ سکے۔کبیر کہتا ہے کہ دنیا کی یہ اُلٹی باتیں دیکھ کر میرے دل کو بہت دکھ ہوا کہ یہ دنیا کتنی غیر معقول ہے کہ ہر چیز کا الٹانام رکھتی ہے۔کیا اس کی آنکھیں بھینگی ہو گئی ہیں کہ اسے سیدھی چیز بھی الٹی نظر آتی ہے۔غرض جہاں تک نام کا سوال ہے کوئی نام رکھ لیا جائے خواہ وہ نام ہندوؤں والا ہو یا عیسائیوں والا ہو یا مسلمانوں والا ہو۔اُس نام کی وجہ سے کوئی حقیقت پیدا نہیں ہوتی۔ہزاروں ہزار لوگ ایسے ہیں جو اپنے آپ کو ہندو، مسلمان، عیسائی، پارسی یا بدھ کہلاتے ہیں۔لیکن وہ مغربی تعلیم سے اتنے متاثر ہوتے ہیں کہ اُن کی زندگی، اُن کے افکار ، اُن کے رہنے سہنے کی عادات، اُن کے لباس کو دیکھا جائے تو اُن میں کمال درجے کا اتحاد نظر آتا ہے۔لیکن جب ان کے نام معلوم ہوں تو اس وقت ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ فلاں کا نام مسلمانوں والا ہے اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوا ہو گا۔چونکہ اس کا نام بُدھوں والا ہے اس لئے معلوم ہوتا ہے یہ بدھوں کے گھر میں پیدا ہوا ہو گا۔یا چونکہ اُس کا نام ہندوؤں والا ہے اس لئے یہ ہندو مذہب سے تعلق رکھتا ہو گا۔لیکن ظاہر میں اُن کے لباس کو ، ان کی بات چیت کو، اُن کے طور طریقہ کو دیکھ کر انسان یہی سمجھتا ہے کہ وہ ایک متحد قوم ہے۔حالانکہ کوئی ان میں سے مسلمان ہے، کوئی ہندو ہے، کوئی عیسائی ہے، کوئی یہودی ہے، کوئی پارسی ہے اور کوئی زرتشتی ہے۔لیکن ناموں سے حقیقت پر پردہ نہیں پڑ سکتا۔حقیقت میں وہ سب کے سب انگریز ہوتے ہیں یا یوں کہنا چاہئے کہ وہ انگریز کے نقال ہوتے ہیں۔اُن کی زندگیاں مغرب کی تقلید میں صرف ہوتی ہیں۔پس صرف نام کوئی حقیقت نہیں رکھتابلکہ اصل چیز یہ ہے کہ نام کے ساتھ اس میں حقیقی طور پر صفات بھی پائی جائیں۔مٹی کا بنا ہوا کیلا بھی نام کے لحاظ سے کیلا ہی ہوتا ہے، مٹی کا بنا ہوا انگور بھی نام کے لحاظ سے انگور ہی ہوتا ہے، مٹی کا بنا ہو ا سیب بھی نام کے لحاظ سے سیب ہی ہوتا ہے، مٹی کا بنا ہوا آم بھی نام کے لحاظ سے آم ہی ہو تا ہے لیکن کیا ان چیزوں کو صرف نام دے دینے کی وجہ سے اُن کے اندر حقیقت پیدا