خطبات محمود (جلد 27) — Page 461
1946ء 461 خطبات محمود کھربوں کھرب دنیا گزر چکی ہے۔ اس زمانہ میں ہی دنیا کی آبادی دو ارب ہے تو ہزار سال میں تو کھربوں کھرب دنیا گزر چکی ہے۔ لیکن ان میں سے صرف دو چار سو ایسے افراد ہوں گے جن کے نام اب تک ان کی اولادوں کی وجہ سے باقی ہیں اور باقی سب لوگ ایسے ہیں جن کے ناموں سے کوئی انسان واقف نہیں۔ ایک ہزار سال کا عرصہ تو بہت لمبا عرصہ ہے۔ میں جلسہ سالانہ کے موقع پر بعض لوگوں سے ان کے پر دادوں کے نام پوچھتا ہوں تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں پتہ نہیں کہ ان کا نام کیا تھا۔ لیکن عثمان نے رسول کریم صلی علیم کی اتباع میں جو قربانی کی وہ آج تک ان کا نام زندہ کئے ہوئے ہے۔ اگر عثمان رسول کریم صلی الم پر ایمان نہ لاتے ۔ تو آج کسی کو ان کے نام سے بھی واقفیت نہ ہوتی لیکن آپ نے اسلام کے زندہ کرنے کے لئے رشتہ دار ، وطن چھوڑے اور آخر رسول کریم صلی علیم کے پہلو میں شہادت پائی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے آج تک صد آپ کا نام زندہ رکھا ہے۔ پس جو شخص اللہ تعالی کی راہ میں فنا ہو تا ہے وہی زندگی پاتا ہے۔ ذرا غور تو کرو کہ بندہ جو قربانی کرتا ہے اس کے بدلے میں جو انعامات اور فضل اس پر نازل ہوتے ہیں۔ ان کا اور اس قربانی کا آپس میں کوئی مقابلہ ہو سکتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ قربانی سے گھبر انا اس بات کی واضح علامت ہے کہ ایسا شخص کمزوری ایمان کا شکار ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین نہیں۔ اگر یقین ہوتا تو وہ بخل سے کام نہ لیتا۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان ان قربانیوں کے بدلے میں بہت جلد مادی نفع چاہتا ہے اور روحانی طور پر اسے جو کچھ ملتا ہے اس کی نظر اس قیمتی چیز کو دیکھ نہیں سکتی۔ وہ جلد گھبر ا جاتا ہے کہ میری قربانیوں کا بدلہ مجھے ابھی تک نہیں ملا۔ اس زمانہ میں قربانیوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کو منتخب کیا ہے۔ ہماری جماعت کی تعداد اس وقت چار پانچ لاکھ کے قریب ہے۔ اگر سب احمدیوں میں قربانی کی روح پیدا ہو جائے اور انہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہو جائے تو تم دیکھو کہ کس طرح بہت تھوڑے عرصہ میں دنیا تہہ و بالا ہو جائے اور دنیا میں احمدیت کا رُعب قائم ہو جائے۔ میں نے جماعت کو بار بار توجہ دلائی ہے کہ کم سے کم ہر ایک احمدی اپنے اوپر یہ فرض کر لے کہ وہ سال میں ایک احمدی ضرور بنائے گا۔ لیکن اس کی طرف بہت کم لوگوں نے توجہ کی ہے۔ ذرا خیال تو کرو کہ اگر ہر ایک احمدی اپنے اس فرض کو ادا کرے اور سال میں ایک احمدی