خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 459

1946ء 459 خطبات محمود میں چالیس سچے مومن مل جائیں تو میں دنیا کو فتح کر سکتا ہوں۔ 2 اور مجھے دنیا کے فتح کرنے میں ذرا بھی شبہ نہیں رہتا۔ لیکن اس وقت اسی جگہ پر ہی چار ہزار کے قریب لوگ بیٹھے ہیں جو کہ اس تعداد سے سو حصہ زیادہ ہیں۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اگر مجھے صرف چالیس سچے مومن مل جائیں تو میں دنیا کو فتح کر سکتا ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان چار ہزار سے صرف چالیس آدمی یعنی ہر سو آدمی میں سے ایک کامل مومن ہو تو دنیا فتح ہو نیا فتح ہو سکتی ہے۔ اس مجلس ہی میں اُس تعداد سے سو گنے زیادہ بیٹھے ہیں۔ اور اگر بیرونی جماعتوں کو ملا لیا جائے تو وہ اس تعداد سے جو اس مجلس میں موجود ہے تقریباً سو گنے زیادہ ہوں گے ۔ کیونکہ اب ہماری جماعت کی تعداد ہندوستان میں ہی چار پانچ لاکھ کے قریب ہے لیکن ابھی تک جماعت وہ کام نہیں کر سکی جو چالیس کامل مومن کر سکتے ہیں۔ پس سو چو تو سہی کہ تم میں سے کتنے ہیں جو اسلام اور احمدیت کے مقاصد کو پورا کرنے کے لئے اپنی تمام توجہ خرچ کرتے ہیں۔ تمہاری بے تو جہگی کی وجہ یہی ہے کہ کبھی تم نے اُس ذمہ داری پر سنجیدگی کے ساتھ غور نہیں کیا جو تم پر ڈالی گئی ہے رسمی طور پر بیعت کر لینا انسان کو کچھ بھی نفع نہیں دیتا جب تک اس کے ساتھ عمل کو شامل نہ کیا جائے۔ اور بعض لوگ ایسے ہیں جو یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم نے احمدیت میں داخل ہو کر اتعالیٰ پر بہت بڑا احسان کر دیا ہے اور اب وجہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی جنت میں داخل نہ کرے۔ حالانکہ بندے پر اللہ تعالیٰ کے جو احسانات اور جو نعمتیں ہیں وہ شمار ہی نہیں ہو سکتیں۔ اگر ایک طرف وہ نعمتیں اور انعام رکھے جائیں تو اُن کے مقابلہ میں بندے کی خدمتیں بالکل پیچ معلوم ہوتی ہیں۔ غالب ایک دنیا دار آدمی تھا۔ لیکن بعض دفعہ دنیا دار آدمی کے منہ سے بھی حکمت کی بات نکل جاتی ہے۔ غالب نے کیا اچھا کہا ہے ۔ جان دی دی ہوئی اُسی کی تھی خداتعا حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہو ا 3 یعنی اگر اللہ تعالیٰ کے رستے میں جان بھی دے دی تو پھر بھی ہم نے کو نسی قربانی کی ہے۔ ہمارے پاس سے کیا گیا ؟ جان تو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی تھی جو اُسے واپس کر دی۔ اور اس کے علاوہ اور بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہمارے ذمہ قرضہ ہیں۔ ہم نے ان کے عوض اللہ تعالیٰ کو کیا دیا؟