خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 454 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 454

*1946 454 خطبات محمود والا اس کی سفارش کر کے اس کی بے ایمانی میں شریک ہوتا ہے۔ایسے موقع پر صحابہ کا نمونہ ایسا پر اخلاص اور ایسا شاندار تھا کہ اُس کو پڑھ کر انسان کو وجد آجاتا ہے۔جب رسول کریم صلی ا لم جنگ تبوک کے لئے تشریف لے گئے تو ایک صحابی سفر پر گئے ہوئے تھے۔وہ کچھ عرصے کے بعد سفر سے واپس آئے تھے۔اپنی جوان اور خوبصورت بیوی سے جدا رہنے کی وجہ سے اُن کے دل میں محبت کے جذبات موجزن تھے۔گھر میں آئے تو اپنی بیوی کی طرف بڑھے کہ اُسے گلے لگائیں۔لیکن بیوی نے آگے سے دھکا دیا۔وہ حیران ہوئے اور پوچھا کہ کیا بات ہے؟ بیوی نے کہا تمہیں شرم نہیں آتی کہ خدا کا رسول تو خطرے میں ہے اور تمہیں پیار کی سوجھ رہی ہے۔بیوی کی یہ بات سن کر انہوں نے دوسری نظر بیوی کی طرف نہیں اُٹھائی بلکہ اپنا اسلحہ لے کر گھوڑے پر سوار ہو کر لڑائی کے لئے روانہ ہو گئے۔یہ لوگ تھے قربانی کرنے والے۔اور اس کا نام ہے قربانی اور وفائے عہد۔اس کے سامنے وقف زندگی کیا حیثیت رکھتا ہے۔لاکھوں کی جماعت میں سے چار پانچ سو آدمیوں نے زندگیاں وقف کیں اور ان میں سے بھی بعض ایسے ہیں جو معمولی معمولی باتوں پر بھاگ جاتے ہیں کہ یہاں روٹی اچھی نہیں ملتی یا مجھے 35 روپے ملنے کی امید تھی لیکن مجھے 30 دیئے جاتے ہیں۔ایسے لوگوں کی سفارش کر کے اپنی بے ایمانی پر مہر ثبت کرنا نہیں تو اور کیا ہے۔وہ مجھے رحیم و کریم کہہ کر مجھ سے معافی لینا چاہتے ہیں۔گویا میں رحیم و کریم بنوں بے ایمانوں کے لئے۔اور ظالم بنوں خدا اور اُس کے رسول کے لئے۔دوستوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہماری جماعت کی ترقی کا دار ومدار وقف پر ہے لیکن ایسا وقف جو کہ کسی وقت اور کسی حالت میں پیٹھ دکھانے کو تیار نہ ہو۔اور ہر احمدی کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اُس کی زندگی، اُس کا مال، اُس کے اوقات سب کے سب اسلام اور احمدیت کے لئے وقف ہیں۔آخر میں نے وقف کی تحریک علیحدہ طور پر جاری کی۔یہ مطالبہ کسی نئی تحریک کی علامت نہیں تھا بلکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ میں جماعت کی قربانی پر محسن ظنی نہیں کرتا ور نہ بیعت کے بعد وقف کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔کیا رسول کریم صلی کم بار بار وقف کی تحریک کیا کرتے تھے؟ بلکہ آپ نے بیعت کو ہی کافی سمجھا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ نے