خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 451

*1946 451 خطبات محمود آہستہ آہستہ ہیں اس لئے ہمارے لئے کامیابی کا وقت ابھی آہستہ آہستہ آئے گا۔صحابہ نے بہت جلد اپنے نفوس کو پاک کر لیا۔اِلَّا مَا شَاءَ اللہ۔اِس لئے وہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کے جلدی حقدار بن گئے لیکن ہم ابھی اس معاملہ میں بہت پیچھے ہیں۔اس لئے میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ مشکلات ضرور ہی ہمارے لئے ترقی کا موجب ہوں گی بلکہ باہر جماعت کی مستیوں اور غفلتوں کو دیکھتے ہوئے میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ آنے والے دن زیادہ خطر ناک ہوں گے اور زیادہ قربانیوں کا مطالبہ کرنے والے ہوں گے۔انسان جتنی جلدی قربانیاں کرتا ہے اللہ تعالیٰ اتنی جلدی ہی اپنے فضلوں کو اس کے قریب لے آتا ہے۔اس کی مثال یوں سمجھ لو کہ ایک شخص چنوں کا ایک ایک دانہ کر کے کھاتا ہے تو اس کا پیٹ گھنٹے میں جا کر بھرتا ہے۔لیکن ایک اور شخص جو آدھے چھلکے کا ایک لقمہ بناتا ہے اس کا پیٹ چند منٹ میں بھر جائے گا۔صحابہ نے جان، مال، عزت، آبرو اور وطن کی قربانی کر کے اس پیمانہ کو جلدی بھر دیا جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے مقرر کیا تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ کا فضل بھی جلدی نازل ہوا۔اب اگر ہم قطرہ قطرہ کر کے قربانی کریں گے تو وہ پیمانہ مدتوں کے بعد بلکہ صدیوں کے بعد جا کر بھرے گا۔یا پھر تم اس کی مثال یوں سمجھ لو کہ ایک شخص کسی مزدور سے یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ تم اتنے گھڑے بھر دو تو میں تمہیں اتنی اجرت دوں گا۔اس مزدور نے بہت بڑی مشک لی جس کے اٹھانے سے اسے سخت تکلیف پہنچتی تھی اور بہت جلد پندرہ منٹ یا آدھ گھنٹہ میں وہ سارے گھڑے بھر دیئے۔اب وہ شخص پندرہ منٹ یا آدھ گھنٹہ کے بعد اس انعام کا مستحق ہو گیا جو اس کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔لیکن ایک اور انسان ہے جس کو گھڑے بھرنے پر لگایا گیا۔اس نے بجائے کوئی مشک وغیرہ لینے کے بچوں کے کھیلنے کی کٹوری لی اور پانی بھر ناشروع کیا۔آدھ میل پر پانی تھا۔وہ ایک کٹوری لاتا اور گھڑے میں ڈال جاتا۔پھر دوسری کٹوری لینے جاتا۔ممکن ہے کہ اس کے دوسری کٹوری لانے تک پہلا پانی گھڑ ہی چوس جائے اور بالکل ممکن ہے کہ اسے وہ گھڑے بھرنے میں کئی مہینے بلکہ کئی سال لگ جائیں۔بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ساری عمر میں بھی نہ بھر سکے۔یہ شخص ساری عمر میں بھی ان گھڑوں کو نہ بھر سکے گا۔لیکن پہلے شخص نے