خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 450 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 450

*1946 450 خطبات محمود کوئی صورت نہ تھی اور یہاں گزارے کی دقت نہیں رہی۔گویا ایسے لوگ یا تو تکلیفوں سے بچنے کے لئے یا گزارے کے لئے قادیان آگئے ہیں۔ان کے مد نظر کوئی قربانی نہ تھی۔مگر صحابہ میں سے تمام کے تمام ایسے تھے جو دین کی خدمت اور دین کے رستہ میں قربانی کر کے آئے تھے۔چنانچہ در جنوں آدمی ایسے تھے جو مسجد میں ہی پڑے رہتے تھے اور رسول کریم صلی الی یکم کی وفات تک پڑے رہے تا کہ جب کبھی بھی رسول کریم صلی ال یکم کو کسی خدمت کی ضرورت ہو تو ہم اس وقت حاضر ہوں۔ایسے لوگوں کی تعداد پچاس سے ڈیڑھ سو ، دو سو تک بیان کی جاتی ہے۔یہ لوگ محض اس لئے مسجد میں پڑے رہتے تھے کہ جب بھی رسول کریم ملی ای کیم کو کوئی ضرورت پیش آئے تو ہم وہ خدمت سر انجام دیں۔اور ان لوگوں نے دس سال مدنی زندگی کے مسجد میں ہی گزار دیئے۔حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ میں بھوک کے مارے بے ہوش ہو جاتا تھا لیکن مسجد سے باہر نہیں جاتا تھا۔5 جانوں کی قربانی میں ہمارے ہاں سید عبد اللطیف صاحب کی مثال پیش کی جاتی ہے۔ان کے علاوہ بھی چار پانچ شہادتیں افغانستان میں ہوئیں اور ہندوستان میں اس قسم کی شہادت تو کوئی نہیں ہوئی۔بعض ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ دشمنوں نے کسی شخص کو احمدیت کی وجہ سے اس طرح مارا کہ وہ بعد میں مر گیا۔اور گھروں سے نکالے جانے کی مثالیں بھی ہمارے ہاں ملتی ہیں۔لڑکوں کو لاوارث کر دینے کی مثالیں بھی ملتی ہیں لیکن اس رنگ کی نہیں جس رنگ میں صحابہ گھروں سے نکلے تھے۔جانی قربانی میں ہم میں اور صحابہ میں فرق نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ہم میں سے مرنے والا اس حسرت سے مرتا ہے کہ کاش! میں بھی نہ مرتا اور یہ کام بھی ہو جاتا۔مگر صحابہ یہ کہتے تھے کہ ہم کو مرنے دو، ہم تو مر جائیں، کام تو ہوتا ہی رہے گا۔گویاوہ موت کو خوشی اور راحت کا ذریعہ سمجھتے تھے اور اس خوشی سے جان دیتے تھے کہ دیکھنے والا حیران ہو جاتا تھا کہ ان کو ہوا کیا ہے ؟ لیکن ہماری جانی قربانیاں اس قسم کی نہیں۔ہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس زمانہ کے لحاظ سے دوسری تمام جماعتوں کے مقابلہ میں ہماری جماعت دین کے لئے زیادہ قربانیاں کرتی ہے۔چونکہ صحابہ نے جلد سے جلد شاندار قربانیاں پیش کیں اس لئے اللہ تعالیٰ کا فضل اُن پر جلد نازل ہوا اور بہت جلد کامیابی تک پہنچ گئے۔لیکن ہماری قربانیاں