خطبات محمود (جلد 27) — Page 448
1946ء 448 خطبات محمود صد رم تے تھے۔ ہیں کہ جس کے پاس اس وقت ایک لاکھ روپیہ تھا آج کے لحاظ سے اُس کے پاس ہیں پچیس لاکھ روپیہ تھا۔ حضرت خدیجہ بھی ان لوگوں میں سے تھیں جو کہ مکہ میں مالدار سمجھے جاتے آپ نے اپنی تمام جائیداد اور روپیہ رسہ رسول کریم صلی العلیم کو دے دیا تھا۔ اس کے علاوہ رسول کریم لام کو کچھ مکان وغیر ہ ورثہ میں بھی ملے تھے۔ لیکن ہجرت کرنے کی وجہ سے وہ سب آپ سی علیہم کو چھوڑنے پڑے۔ جب مکہ فتح ہوا تو صحابہ نے عرض کیا یا رَسُولَ الله ! آپ کس مکان میں ٹھہریں گے ؟ آپ نے جو جواب دیا وہ ایسا درد ناک تھا کہ اس کو پڑھ کر انسان کو معلوم ہو سکتا ہے کہ رسول کریم صلی علیم اور آپ کے ساتھیوں کو کس قدر مالی قربانیاں کرنی پڑیں۔ آپ نے فرمایا کیا عقیل نے ہمارے لئے کوئی جگہ مکہ میں چھوڑی ہے کہ ہم اس میں ٹھہریں؟ 3 ہمارے خیمے وہاں لگاؤ جہاں کفار مکہ نے قسمیں کھائی تھیں کہ ہم محمد ( رسول اللہ صلی ) اور اس کے ساتھیوں کو تباہ کر دیں گے۔ کتنی بڑی قربانی ہے جو رسول کریم صلی علیم نے کی۔ ہمارے چندے ان قربانیوں کے مقابل پر کیا حیثیت رکھتے ہیں۔ صا الله پھر انصار کی قربانیوں کا تصور تو کرو کہ وہ کس قدر شاندار تھیں۔ جب صحابہ مکہ سے ہجرت س کر کے مدینہ پہنچے تو رسول کریم صلی علیم نے مہاجرین و انصار کو آپس میں بھائی بھائی بنادیا یعنی ایک ایک انصاری کو ایک ایک مہاجر کا بھائی بنا دیا۔ جب رسول کریم صلی العلیم نے مہاجرین و انصار کو بھائی بھائی بنا دیا تو انصار نے اس بات پر اصرار کیا کہ یا رَسُولَ الله ! جب مہاجرین ہمارے بھائی بن گئے ہیں اور ان کے پاس گزارے کی کوئی صورت نہیں تو آپ ہماری جائیدادیں برابر برابر ہم میں بانٹ دیں۔ آخر ایک بھائی کو دوسرے بھائی کی جائیداد سے حصہ ملنا چاہئے۔ آپ کیوں ہماری جائیدادیں ہمارے در میان تقسیم نہیں کر دیتے۔ 4 کتنا محبت کا جذبہ ہے جو انصار نے مہاجرین کے لئے ظاہر کیا۔ ہمارے یہاں جلسہ سالانہ کے لئے سال کے بعد چند دنوں کے لئے مکانوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہمارے باہر سے آنے والے دوست سینکڑوں اور ہزاروں میلوں کا سفر طے کر کے آتے ہیں۔ کوئی مدراس سے آتا ہے، کوئی بمبئی سے آتا ہے، کوئی کلکتہ سے آتا ہے اور بعض دوست ایسے ہوتے ہیں جو بیرون ہند سے جلسہ سالانہ کے لئے آتے ہیں۔ یہ تمام لوگ سینکڑوں روپیہ عقیل حضرت علی کے بڑے بھائی تھے۔