خطبات محمود (جلد 27) — Page 447
*1946 447 خطبات محمود الله سة زمیندار سے میں نے فیصلہ کیا کہ میں تیرے کھیت کو پانی دیتا ہوں تم مجھے اس کے عوض میں کچھ غلہ دے دینا۔چنانچہ اُس نے تین مٹھی جو دینے کا وعدہ کیا۔حضرت علی فرماتے ہیں میں ایک پہر یا دو پہر تک اس کے کھیت کو پانی دیتا رہا۔جب میں پانی دے چکا تو اس نے مجھے تین مٹھی جو دیئے جو میں نے لا کر چندے میں دے دیئے۔تو وجہ یہ نہ تھی کہ صحابہ میں با قاعدہ چندے دینے کا رواج نہ تھا بلکہ ان کے پاس چندہ دینے کے لئے مال ہی نہ تھا۔ورنہ ہمارے مذہب میں چندے کی اتنی اقسام ہیں کہ کوئی قوم ہمارے ساتھ لگا1 نہیں کھا سکتی۔رسول کریم على الالم خود بے شک کسی بڑی جائیداد کے مالک نہ تھے لیکن حضرت خدیجہ ایک مالدار عورت تھیں۔انہوں نے نکاح کے بعد تمام مال رسول کریم صلی علی نام کی نذر کر دیا تھا۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ مکہ کے بڑے بڑے امراء بھی ایسے ہی ہوں گے جیسے گاؤں کے امراء ہوتے ہیں۔لیکن اُن کا یہ خیال غلط ہے۔مکہ میں بڑے بڑے مالدار لوگ بھی تھے۔ان کے مالدار ہونے کا اندازہ اِس سے ہو سکتا ہے کہ فتح مکہ کے بعد جنگ حنین کے لئے رسول کریم صلی ا ہم نے مکہ کے ایک کافر رئیس سے تیس ہزار درہم قرض لئے اور کئی ہزار نیزہ قرض لیا اور اسی شخص سے کئی سو زر ہیں قرض لیں۔2 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی لکھ پتی آدمی تھا اور ہمارے اس زمانہ کے لحاظ سے کروڑ پتی تھا کیو نکہ اس زمانہ میں روپے پیسے کی بہت قدر تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ مجھے ایک بڑھے سکھ نے سنایا کہ اس نے آٹھ آنے میں گائے خریدی تھی۔اور مجھے بھی اچھی طرح یاد ہے کہ ہمارے بچپن کے زمانہ میں مہینہ بھر کی صفائی کی اجرت خاکروب کو چار یا آٹھ آنہ دی جاتی تھی اور اب ایک بوری ایک جگہ سے دوسری جگہ رکھوائی جائے تو مزدور اس کی مزدوری آٹھ آنے مانگتے ہیں۔لیکن اُس وقت خاکروب آٹھ آنے خوشی سے لے لیتا تھا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ غلہ اور دوسری کھانے پینے کی چیزیں بہت ستی تھیں۔ایک روپے کا دس پندرہ من غلہ اور چار پانچ سیر گھی آجاتا تھا۔ایک روپیہ کا ڈیڑھ سیر تو میری ہوش میں بھی تھا۔جب چار پانچ سیر روپے کا گھی سیر ڈیڑھ سیر ہو گیا۔تو لوگوں میں شور مچ گیا کہ گھی کا قحط پڑ گیا ہے۔لیکن اب پانچ روپے سیر بک رہا ہے۔پس آجکل روپے کی قیمت اس وقت کے ایک آنے سے بھی کم ہے۔اس لحاظ سے ہم سمجھ سکتے