خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 446 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 446

1946ء 446 خطبات محمود س الله سر لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں چندہ دینے کی توفیق تو تھی مگر اس کے باوجود ان کے لئے نہیں چندہ دینے کی توفیق تو بھی عمر اس کے با قاعدہ چندے کا حکم نہ تھا بلکہ اصل وجہ یہ تھی کہ صحابہ کے سارے مال لوٹ لئے گئے تھے۔ نہ آخر ز کوۃ تو اسی شخص پر واجب ہے جس کے پاس کچھ ہو۔ لیکن صحابہ کی جائیدادیں اور ان کے اموال تو اللہ تعالیٰ کے رستے میں ان سے لے لئے گئے تھے۔ اس کے باوجود ان کے دلوں میں کے مالی قربانی کی اتنی شدید خواہش ہوتی تھی کہ ان واقعات کو پڑھ کر انسان کا دل ہاتھوں سے نکلتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ جس طرح مکہ حضرت ابراہیم کی نسل کے لئے ایک اجنبی جگہ تھی اسی طرح مدینہ رسول کریم صلی علیم اور آپ کے ساتھیوں کے لئے اجنبی جگہ تھی۔ جس طرح مکہ پر حضرت ابراہیم کی نسل کو حکومت ملی اسی طرح مدینہ پر رسول کریم صلی علی ایم کے ساتھیوں کو حکومت ملی۔ حضرت اسماعیل کے پوتے جو اس علاقہ کے رئیس کے داماد تھے اللہ تعالیٰ نے اُن کو اس ملک کا حاکم بنا دیا۔ حالات نے کچھ ایسا پلٹا کھایا کہ بنو اسماعیل کی اصل ساکنین مکہ سے لڑائی ہو گئی اور مکہ کی بادشاہت حضرت اسماعیل کی نسل کو مل گئی اور یہ حکومت رسول کریم لی العلیم کے زمانے سے پہلے تک چلی آئی۔ رسول کریم صلی الم کے دادا کے بعد آپ آ۔ کے چچا ابو طالب کے پاس آئی لیکن رسول کریم صلی علیم کی نصرت اور مدد کرنے کی وجہ سے آپ کے چا آمدنی کے ذرائع سے محروم ہو گئے۔ لیکن آپ کے دادا عبد المطلب کے متعلق عرب تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک مالدار آدمی تھے۔ لیکن ابو طالب غریب ہو گئے تھے کیونکہ رسول کریم صلی علیم سے ہمدردی رکھنے کی وجہ سے اُن کی قوم نے اُن سے تعاون کرنا چھوڑ دیا تھا۔ اور حضرت علی ابو ابو طالب کے بیٹے تھے۔ اُس زمانہ میں ریاست اس قسم کی نہ تھی جو نسلاً بعد نسل ایک ہی حالت میں رہے بلکہ جس طرح پٹھانوں کے آزاد قبائل کے سردار ہوتے ہیں اسی قسم کے یہ لوگ سردار ہوتے تھے۔ اور کوئی خاص قانون رائج نہ تھا کہ جس کی پابندی کی جائے۔ بلکہ تعاون کی حکومت تھی قانون کی حکومت نہ تھی۔ لیکن اسلام لے آنے کی وجہ سے ان لو لوگوں کی حالت ایسی ہو چکی تھی کہ حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی العلیم نے چندے کی تحریک فرمائی۔ میرے دل میں شدید خواہش پیدا ہوئی کہ میں بھی اس میں حصہ لوں لیکن پاس کچھ نہیں تھا۔ میں باہر نکل گیا اور باہر جا کر ایک