خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 445 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 445

خطبات محمود 445 *1946 صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی وہ شخص تھے جو فارغ بیٹھے اس تماشہ کو دیکھ رہے تھے۔غرض وہی چیز جسے دشمن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذلت اور رسوائی کا موجب سمجھتے تھے وہی آپ کے لئے عظیم الشان نشان بنی اور بے ایمانی اور کفر کو مٹانے اور آپ کے ماننے والوں کے لئے ازدیاد ایمان کا موجب بنی۔آپ کے ماننے والے سینکڑوں بلکہ ہزاروں سال سے آپ کے اس معجزہ کو پیش کرتے ہیں۔لیکن اس وقت ہمیں جو مشکلات در پیش ہیں میں ان کے متعلق نہیں کہہ سکتا کہ وہ ہمارے لئے کامیابی کا موجب ہوں گی یا ناکامی کا باعث بنیں گی۔نتائج تو خدا تعالیٰ کے پاس ہیں۔ظاہر کو دیکھتے ہوئے یہی نظر آتا ہے کہ یہ مشکلات اور یہ مصائب احمدیت کے رستے میں روکیں پیدا کریں گے۔خواہ دیدہ و دانستہ طور پر روکیں پیدا کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔لیکن قدرتی طور پر روکیں پیدا ہوتی نظر آتی ہیں اور ایسے حالات پیدا ہو رہے ہیں کہ جن کی وجہ سے لوگوں کی توجہ تحقیق حق کی طرف سے پھر جانے کا خطرہ ہے۔میں نے پچھلے خطبہ میں بتایا تھا کہ ہمارا کام ساری قوموں سے جداگانہ ہے اور بعض لحاظ سے کوئی قوم ایسی نہیں جس کی مشکلات ہمارے جیسی ہوں۔اور بعض لحاظ سے ہماری جماعت کو ابھی تک وہ قربانیاں نہیں کرنی پڑیں جو پہلے انبیاء کی جماعتوں کو کرنی پڑی تھیں۔رسول کریم صلی نیم کی جماعت کو تیرہ سال مکہ میں اور آٹھ نو سال تک مدینہ میں سخت سے سخت تکلیفیں برداشت کرنی پڑیں اور رسول کریم صلی ال ولیم کی وفات کے بعد بھی وہ لوگ قربانی کے تنوروں میں جھونکے گئے۔آپ کی وفات کے بعد بارہ تیرہ سال تک مسلمان سخت مصائب میں مبتلا ر ہے۔جس قسم کی قربانیاں آپ کے صحابہ نے پیش کیں اس قسم کی قربانیاں ہم نے پیش نہیں کیں۔اور جس قسم کے مصائب ان لوگوں پر نازل کئے گئے اور جس قسم کی تکلیفیں ان لوگوں نے برداشت کیں وہ تکلیفیں ہمیں پیش نہیں آئیں۔اس میں شبہ نہیں کہ ہماری جماعت چندے میں بہت حد تک با قاعدہ ہے اور ہماری جماعت کے بہت سے افراد ایسے ہیں جنہوں نے احمدیت کی خاطر گالیاں سنیں۔اور بہت سے افراد ایسے ہیں جنہوں نے احمدیت کی خاطر ماریں کھائیں۔اور بعض افراد ایسے بھی ہیں جو قتل کئے گئے لیکن پھر بھی ہماری قربانیاں اس معیار سے بہت نیچے ہیں جس پر صحابہ کی قربانیاں تھیں۔اس میں شبہ نہیں کہ صحابہ کے لئے باقاعدہ چندے کا حکم نہیں تھا رض