خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 444

*1946 444 خطبات محمود سة دراصل ہماری شکست بن رہی ہے اور وہ چیز جسے ہم نے محمد (رسول اللہ صلی الم) اور اس کے ساتھیوں کے لئے ناکامی اور نامرادی کا باعث سمجھا تھا وہ حقیقت میں اُن کے لئے کامیابی اور بامر ادی کا ذریعہ بن گئی ہے۔اور وہ شخص جسے ہم نے گھر سے بے گھر اور بے در کرنے کی کوش کی ہے وہ تو بہت سے گھروں کا مالک ہو گیا ہے تو مکہ والوں میں نئے سرے سے جوش پیدا ہوا اور انہوں نے پھر مسلمانوں کو دکھ اور عذاب دینے شروع کر دیئے۔پس وہ چیز جسے دشمنوں نے مسلمانوں کی ناکامی اور نامرادی کا ذریعہ سمجھا وہی اُن کے لئے کامیابی اور بامرادی کا ذریعہ بن گئی اور وہی تکلیفیں اور دکھ مسلمانوں کے لئے راحت و آرام کا موجب بن گئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آپ کے دشمنوں نے جلانے کی کوشش کی اور وہ یہی سمجھتے تھے کہ آج ابراہیم کو آگ میں جلا کر ان کا خاتمہ کر دیں گے۔لیکن وہ اپنی اس کوشش میں بالکل ناکام رہے۔اور وہی آگ عوام الناس کے خیالات کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے گلزار بن گئی۔اور ہمارے نزدیک یہ معجزہ اس طور پر رونما ہوا کہ دشمن بڑی کوشش سے آگ جلاتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ جھٹ تیز ہوائیں چلا دیتا تھا جو اس آگ کو بجھا دیتی تھیں یا اللہ تعالیٰ بادل بھیج دیتا تھا جو آکر زور سے برستے تھے اور آگ کو بجھا دیتے تھے۔وہ اجتماع اس لئے ہوا تھا کہ لوگ دیکھیں کہ ابراہیم کس طرح جلتا ہے۔بادشاہ اور اُس کے امراء اور وزراء اور عوام الناس کا ہزاروں لاکھوں کا مجمع جمع ہو گیا کہ وہ دیکھیں کہ ابراہیم کس طرح جلتا ہے لیکن وہاں اُنہوں نے کچھ اور ہی نظارہ دیکھا کہ لکڑیوں کا ایک بہت بڑا الاؤ حضرت ابراہیمؑ کو جلانے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔لوگ لکڑیوں کو آگ لگاتے ہیں۔جب وہ آگ بھڑ کنے لگتی ہے تو تیز ہوائیں یا تیز بادل آکر برستے ہیں اور اُس آگ کو بجھا دیتے ہیں۔گویا اُس دن زمین و آسمان کی لڑائی ہو رہی تھی۔بادشاہ اور امراء، وزراء آگئیں لا لا کر ان لکڑیوں کو لگاتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ کے فرشتے کبھی ہواؤں کے ذریعہ اور کبھی بارش کے ذریعہ اس آگ کو بجھا دیتے تھے۔گویا زمین و آسمان آپس میں لڑ رہے تھے۔اہل زمین جن میں بادشاہ اور اس کے امراء اور وزراء اور قومیں شامل تھیں وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلانے کی کوشش کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی فوجیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بچانے کی کوشش کر رہی تھیں۔اور زمین و آسمان میں