خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 420

1946ء 420 خطبات محمود سم تعلیم سے نا آشنا ہو گئے ہیں۔ اِس لئے اب ان ۔ کے دلوں میں میں قرآن کریم اور رسول کریم صلی الله یم کی محبت کو قائم کرنا چاہئے اور اُنہیں اُس تکلیف اور مصیبت کا احساس کرانا چاہئے جو اُن پر پڑنے والی ہے۔ اگر اُن کو اس مصیبت کا احساس ہو جائے اور دردِ دل سے دعاؤں میں لگ جائیں تو یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ خدا جس نے یونس علیہ السلام کی قوم کی دعاؤں کو سن کر اُن سے عذاب کو ٹلا دیا تھا وہ محمد رسول اللہ صلی علیم کی اُمت کی دعاؤں کو نہ سنے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ اے دل تو نیز خاطر ایناں نگاہ دار کاآخر کنند دعوى حُبّ پیمبرم 8 اس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سمجھایا ہے کہ دیکھو! یہ مسلمان تمہیں تکلیفیں بھی دیں گے ، تمہارے آدمیوں کو قتل بھی کریں گے ، تمہیں ہر قسم کے دکھ ان کے ہاتھوں سے پہنچیں گے۔ لیکن دیکھنا! غصے نہ ہونا کہ ”آخر کنند دعوی حُبّ پیمبرم“ کہ آخر تمہارے محبوب محمد رسول اللہ صلی العلیم سے وابستہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس لئے ان کا لحاظ ضرور کرنا اور ان کی سخت باتوں پر خفگی کا اظہار نہ کرنا۔ پس ہماری جماعت کے دوستوں کو دوسرے مسلمانوں کو بھی سمجھانا چاہئے کہ وہ بھی دعاؤں میں لگ جائیں اور درد دل سے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ وہ ان مصائب کو مسلمانوں سے دور کر دے۔ اور جیسا کہ میں نے کہا ہے جماعت کا فرض ہے کہ وہ سمجھ سوچ کر دعائیں کرے اور ایسی دعائیں کرے جو اپنے ساتھ پر درد جذبات رکھتی ہوں۔ اگر تم درد دل سے دعائیں کرو گے تو تمہاری دعا پانی سے پر بادل کی طرح ہو گی جو زمین پر سیلاب لے آتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے عرش کو گیلا کر دے گی اور اس کی رحمت کو عرش سے کھینچ کر لے آئے گی۔“ الفضل 3 ستمبر 1946ء) 1: تفسير غرائب القرآن بر حاشیه تفسیر ابن جریر جلد 3 صفحہ 204- مطبوعہ مصر 2: صحیح بخاری کتاب الصوم باب من لم يدع قول الزور و العمل به في الصوم 3: يَمُنُونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا قُلْ لَا تَمُنُّوا عَلَى إِسْلَامَكُمْ بَلِ اللَّهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَدَيكُمْ لِلْإِيمَانِ (الحجرات : 18)