خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 418

خطبات محمود 418 *1946 پس دعا کے لئے سب سے ضروری امر یہ ہے کہ انسان اپنی کمزوریوں اور اپنی ضرورتوں کو اپنے سامنے لائے اور اُن کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرے۔یہ دعا ایسی ہو گی جو اسے فائدہ پہنچائے گی اور اُس کے لئے کامیابی کے رستے کھول دے گی۔ورنہ یو نہی یا اللہ ! رحم کرے یا اللہ رحم کر کہتے جانا انسان کی فلاح اور کامیابی کا موجب نہیں ہو سکتا۔لیکن جو شخص اپنی کمزوریوں کا ندامت کے ساتھ احساس کرے گا اور اپنی حقیقی ضرورتوں اور اپنی جہالت اور کم علمی کا احساس کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر گرے گا وہ جاہل ہونے کی حالت میں رمضان میں داخل ہو گا اور عالم بن کر رمضان سے نکلے گا۔تو ان چیزوں میں انسان کی اپنی ذاتی قابلیتوں اور استعداوں کا بھی دخل ہوتا ہے۔لیکن بہر حال ایسی دعائیں کرنے والا شخص پہلے کی نسبت بہت آگے نکل جائے گا۔ہر شخص سے خدا تعالیٰ کا الگ الگ معاملہ ہوتا ہے۔میرے ساتھ جو اللہ تعالیٰ کا معاملہ ہے وہ ہر شخص سے نہیں ہو سکتا۔میں نے دیکھا ہے مختلف علوم جن سے مجھے دلچسپی ہے وہ سب کے سب خدا تعالیٰ نے مجھے سکھائے ہیں اور ان دنیاوی علوم کے متعلق بڑی محنت سے تحقیقات کر کے جن لوگوں نے کتابیں لکھی ہیں جب میں اُن کتابوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے اُن کی کتابیں پڑھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ ابھی ابتدائی مسائل بیان کر رہے ہیں۔ہاں جن علوم سے مجھے دلچسپی نہیں وہ مجھے بالکل نہیں آتے۔مثلاً کوئی کہے کہ تمہیں باجا بجانا آتا ہے؟ تو میں کہوں گا نہیں۔کیونکہ مجھے اس سے کسی قسم کی دلچسپی نہیں۔پس جو سلوک اللہ تعالیٰ کا میرے ساتھ ہے وہ ہر ایک کے ساتھ نہیں۔عام طور پر انسان کوشش کر کے ہی کسی چیز کو حاصل کرتا ہے۔یہ اس کا محض فضل ہے کہ ایک شخص جو ظاہری لحاظ سے اس سلوک کا مستحق نظر نہیں آتا وہ اس پر اپنا فضل نازل کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا عام قانون بھی ہے کہ انسان کو شش کرے تو وہ مطلوبہ چیز کو حاصل کرنے میں بہت حد تک کامیاب ہو جاتا ہے۔سقراط اور ارسطو نے فلسفے وغیرہ کے جو اصول مقرر کئے ہیں وہ سب ان کی سوچ بچار کا نتیجہ ہیں اور ان کی ذہنی کوشش کا پھل ہیں۔پس سوچ سمجھ کر دعائیں کرو اور اپنی قوم کی ضرورتوں کو مد نظر رکھ کر اور ان کا احساس کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرو۔اللہ تعالیٰ تمہاری دعاؤں کو سنے گا اور رمضان کا