خطبات محمود (جلد 27) — Page 354
1946ء 354 خطبات محمود شروع ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو پیدائش سے ہی بچے کا قانونی حق بنا دیا ہے کہ بچہ پیدا ہونے کے بعد اگر سانس لے تو مسلمانوں پر اُس کا اُسی طرح حق ہے جس طرح بڑے آدمیوں کا کہ اس کا جنازہ پڑھا جائے۔ یہ حق اس قسم کا ہے کہ اگر مسلمانوں میں سے بعض آدمی اس حق کو پورا کر دیں تو باقیوں پر سے یہ حق ساقط ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر کوئی بھی جنازہ نہ پڑھے تو سب مسلمان گنہگار ہوتے ہیں۔ پس بچے کا یہ قانونی حق اللہ تعالیٰ نے پیدائش سے ہی مقرر کر دیا ہے رسول کریم صلی ا علم کے ذریعہ یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ بچہ پیدائش کے بعد اگر سانس لے تو اس اور رسو الله سه کا قانونی وجود مسلمانوں کو تسلیم کرنا چاہئے اور ورثہ میں اُس کا حصہ رکھنا چاہئے۔ پس جس طرح بچے کی پیدائش ہوتی ہے۔ اسی طرح قو میں پیدا ہوتی ہیں۔ کسی قوم کا قانونی وجود تسلیم کئے جانے کے معنے یہ ہیں کہ دنیا اسے قوم تسلیم کرلے اور ملک کے سیاسی اور اقتصادی حالات کے رد و بدل میں اس کا ہاتھ ہو۔ ورنہ اگر دس آدمی جمع ہو جائیں تو وہ بھی ایک کمیٹی بنا لیتے ہیں لیکن انہیں دنیا قوم تسلیم نہیں کرتی کیونکہ قومی وجود کے لئے ایک خاص تعداد کی ضرورت ہے۔ اب کمیشن (commission) ہندوستان میں آیا تھا۔ اس نے بعض قوموں کے قومی وجود کو تسلیم کیا اور بعض کے وجود کو تسلیم نہیں کیا۔ چنانچہ کمیشن نے اپنے مشوروں میں ہندوؤں، مسلمانوں، سکھوں، اینگلو انڈین (Anglo- Indian) اور عیسائیوں کو بلایا۔ لیکن ان کے علاوہ اور بھی کئی جماعتیں ہیں جو اپنے مستقل وجود کا دعویٰ کرتی ہیں لیکن ان کو نہیں بلایا اور دستور ساز اسمبلی میں تو صرف تین قوموں کو رکھا ہے۔ اینگلو انڈین اور عیسائیوں کو ان کی مذہبی اور نسلی حیثیت کے لحاظ سے بلایا تھا۔ سوائے ان چند اقوام کے باقی تمام قوموں کا انہوں نے قانونی وجود تسلیم نہیں کیا۔ جس طرح انہوں نے شیعہ اور اہل حدیث کو نظر انداز کیا ہے اِسی طرح انہوں نے اچھوت کو باوجو د لاکھوں کی تعداد میں ہونے کے نہیں بلایا۔ اسی طرح انہوں نے ہماری جماعت کو بھی نہیں بلایا کیونکہ انہوں نے ہماری جماعت کا قانونی وجود تسلیم نہیں کیا۔ اس میں شبہ نہیں کہ سیاسیات کے لحاظ سے اس وقت ہمارا مسلم لیگ سے اشتراک اور اتحاد ہے لیکن بحیثیت جماعت احمد یہ ہم سے لیگ کا کوئی فیصلہ نہیں۔ ہمارا اسمبلی کا ممبر بے شک