خطبات محمود (جلد 27) — Page 353
*1946 353 خطبات محمود قانونی وجود تسلیم کر لیا جاتا ہے۔اسی لئے تو شریعت نے اس کے جنازہ کا حکم دیا ہے۔اور اگر وہ زندہ رہے تو اسلامی حکومت پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ جہاں وہ دوسری رعایا کے لئے غذا اور لباس کا انتظام کرے وہاں اس بچہ کی غذا کا بھی انتظام کرے۔حضرت عمرؓ نے شروع شروع میں دودھ پیتے بچوں کے لئے کوئی وظیفہ مقرر نہیں کیا تھا لیکن بعد میں دودھ پیتے بچوں کا حق تسلیم کر لیا اور حکم دیا کہ اُن کا حصہ اُن کی ماؤں کو دیا جائے۔پہلے حضرت عمر یہ سمجھتے تھے کہ جب تک بچہ دودھ پیتا ہے وہ قوم کے وجود میں حصہ نہیں لیتا، اس کی ذمہ داری اس کی ماں پر ہے پبلک پر نہیں۔لیکن ایک دفعہ حضرت عمر سیر کے لئے باہر تشریف لے گئے۔شہر سے باہر ایک قافلہ بدویوں کا اترا ہوا تھا۔حضرت عمرؓ نے ایک خیمہ سے بچے کے رونے کی آواز سنی۔بچہ چیخ رہا تھا اور ماں تھپک تھپک کر سُلانے کی کوشش کر رہی تھی۔جب کچھ مدت تک تھپکی دینے کے باوجود بچہ چپ نہ ہوا تو ماں نے بچے کو تھپڑ مار کر کہا رو عمر کی جان کو۔حضرت عمر حیران ہوئے کہ اس بات سے میرا کیا تعلق ہے؟ حضرت عمر نے اُس عورت سے خیمہ میں داخل ہونے کی اجازت لی اور اندر جا کر اس عورت سے پوچھا۔بی بی! کیا بات ہے؟ چونکہ وہ حضرت عمر کو پہچانتی نہ تھی اس لئے کہنے لگی بات کیا ہے ؟ عمر نے سب کے گزارے مقرر کئے ہیں لیکن اس کو یہ معلوم نہیں کہ دودھ پیتے بچوں کے لئے بھی غذا کی ضرورت ہے۔اب میرے پاس دودھ پورا نہیں اور میں نے اس کا دودھ چھڑا دیا ہے تا اس کا وظیفہ مقرر ہو جائے۔حضرت عمر اسی وقت واپس آئے اور آپ نے خزانے سے آٹے کی بوری نکلوائی اور خود اٹھا کر چلنے لگے۔وہ آدمی جو خزانہ پر مقرر تھے وہ آگے بڑھے کہ ہم اٹھا کر لے چلتے ہیں۔حضرت عمرؓ نے اُن سے کہا تم چھوڑ دو۔میں خود اٹھا کر لے جاؤں گا۔قیامت کے دن جب مجھے کوڑے لگیں گے تو کیا میری جگہ تم جواب دو گے؟ پتہ نہیں کہ اس طرح میرے ذریعہ کتنے بچے مر گئے ہیں۔اس کے بعد حضرت عمر نے یہ حکم دے دیا کہ دودھ پیتے بچوں کا بھی وظیفہ مقرر کیا جائے۔2 یہ دیکھا گیا ہے کہ بعض بچے چھٹے ساتویں مہینے ہی روٹی مانگنا شروع کر دیتے ہیں یا اگر ماں کا دودھ کم ہو تو وہ بچے کو حریرہ وغیرہ بنادیتی ہے اس لئے حضرت عمر نے قانون میں تبدیلی کرلی اور آپ پر اپنی غلطی ظاہر ہو گئی اور معلوم ہو گیا کہ بچے کا قانونی حق پیدائش سے ہی شروع ہو جاتا ہے نہ کہ ایک دوسال کے بعد رض