خطبات محمود (جلد 27) — Page 352
1946ء 352 (26) خطبات محمود ہماری جماعت پر قریب کے زمانہ میں ایک نیا دور آنے والا ہے ) فرمودہ 26 جولائی 1946ء بمقام ڈلہوزی) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ دو فرد کی زندگی کی طرح قومی زندگی بھی مختلف مراحل میں سے گزرتی ہے۔ میں نے پچھلے سال ڈلہوزی میں ایک خطبہ میں بیان کیا تھا کہ جیسے بچے کی پیدائش کا وقت نازک ہوتا ہے اسی طرح قوموں کی پیدائش کا وقت بھی بہت نازک ہوتا ہے۔ جب تک بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اس میں وہ جذبات پیدا نہیں ہوتے جو پیدا ہونے کے بعد شروع ہوتے ہیں۔ اس فطرتی جذبہ کو مد نظر رکھتے ہوئے شریعت نے یہ حکم دیا ہے کہ پیدا ہونے کے بعد جو بچہ سانس کومد یہ ہوئے شریعت نے یہ ہم دیا ہے کہ پیدا ہونے کے بعد جو بچہ سائس لے اُس کا جنازہ پڑھا جائے 1 اور جو بچہ سانس نہ لے اُس کا جنازہ نہ پڑھا جائے۔ اگر وہ سانس کا نہ لیتا ہے تو وہ اس دنیا کا جزو بن جاتا ہے اور اُسے اِس دنیا کے لوگوں سے ایک دلچسپی ہوتی ہے۔ گو وہ کلام نہیں کر سکتا لیکن اس کی روح آنکھوں کے ذریعہ سے دوسری روحوں سے ہمکلام ہوتی ہے اور اس کو ایک تعلق اس دنیا سے پیدا ہو جاتا ہے۔ اور جس کے گھر میں وہ بچہ پیدا پیدا ہوتا ہے وہ اس وقت سے صاحب اولاد ہو جاتا ہے اور اس بچہ کے متعلق امیدیں شروع ہو جاتی ہیں۔ ملنے جلنے والے لوگ آتے ہیں اور مبارک باد کہتے ہیں۔ اس حال میں کوئی نہیں جانتا کہ بچہ کیسا ہو گا۔ لیکن جس طرح ایک چیز کا قانونی وجود تسلیم کیا جاتا ہے اسی طرح بچے کی پیدائش کے بعد اُس کا