خطبات محمود (جلد 27) — Page 326
1946ء 326 خطبات محمود ارد گرد کی قومیں فساد کے لئے کس کس قسم کی تیاریاں کر رہی ہیں۔ اور اگر اُسے کسی بات کا علم ہو تو وہ تحقیقات کر کے اُس کی تفصیلات کے متعلق مرکز کو فوراً اطلاع دے تاکہ مرکز اس کے دفعیہ کی کوشش کر سکے۔ تا اگر وہ منصوبے جماعت کے متعلق ہوں تو خود حفاظتی کے سامان بہم پہنچائے جائیں اور اگر دوسروں کے متعلق ہوں تو انہیں خبر دی جائے۔ پس جماعت کے دوستوں کو ایک طرف تو فساد کے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور فساد کی کسی تحریک میں کسی احمدی کو شامل نہیں ہونا چاہئے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کو ایسے فسادات سے محفوظ رکھے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے کہ وہ ان فسادات کے بادلوں کو جو کہ اس وقت سخت جوش مار رہے ہیں ایسے طور پر دور کر دے کہ گویا وہ پیدا ہی نہیں ہوئے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے کہ وہ فسادات کے مقامات کو ہم سے اتنی دور کر دے کہ ان کا اثر ہم تک نہ پہنچ سکے اور ہمارا مرکز خطرہ سے محفوظ رہے۔ اگر اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو محفوظ بھی کر دے تب بھی ہمارا فرض ختم نہیں ہو جا تا بلکہ باقی ملک کو اس تباہی اور بربادی سے بچانا بھی ہمارا فرض ہے اور ہم ایسا تبھی کر سکتے ہیں جب ہمیں فساد ہونے سے پہلے ان حالات کا علم ہو جائے تا کہ ہم پوری محنت اور کوشش کے ساتھ ہر قسم کی حفاظتی تدابیر اختیار کر سکیں۔ اگر ہمیں وقت پر علم ہو جائے تو ہمارے لئے موقع ہو گا کہ ہم دوسری جماعت کو جس کو نقصان پہنچانے کا ارادہ کیا گیا ہے وقت پر مطلع کر دیں تا کہ وہ مقابلہ کے لئے ہو شیار ہو جائے۔ اور ہم حکومت کے افسروں کو اطلاع کر دیں کہ اس اس قسم کی تیاریاں فلاں قوم نے کی ہیں ہیں اور وہ فلاں قوم کے متعلق بد ارادے رکھتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس طرح ذمہ دار افسر اس فساد کو روکنے میں کامیاب ہو جائیں۔ اور اگر ہمیں وقت پر اطلاع ہو جائے تو ہم ان فتنہ و فساد کرنے والوں کو بھی سمجھا سکتے ہیں۔ اور اگر وہ فتنہ و فساد ہماری جماعت کے خلاف ہو تو ہم اس کا تدارک کرنے کی فکر کریں گے اور اپنے مقدس مقامات کی حفاظت کا سامان کریں گے۔ اور ہم جماعتی طور پر انشاء اللہ ایسی کوشش کریں گے کہ ہماری جماعت ہر قسم کے نقصان سے محفوظ رہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہماری جماعت اپنے کان اور اپنی آنکھیں کھول کر حالات کا جائزہ لیتی رہے۔