خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 23

خطبات محمود نو مسلم کو معاف کر دیا۔8 23 1946ء پس عورتوں میں جذباتی رنگ غالب ہوتا ہے۔ لجنہ اماء اللہ کا فرض تھا کہ وہ عورتوں کے سامنے بیان کرتی کہ آج اسلام کو ان کے نوجوان لڑکوں کی ضرورت ہے ، آج اسلام کو ان کے خاوندوں کی ضرورت ہے ، آج اسلام کو مالوں کی ضرورت ہے اور ان کا فرض ہے کہ وہ ہر چیز بلا دریغ پیش کر دیں۔ اگر یہ طریق اختیار کیا جاتا تو مجھے یقین ہے کہ وہ لوگ جو ایمان میں کمزور تھے وہ بھی اعلی اخلاص کا نمونہ پیش کرتے۔ ایک شخص نے مجھے بتایا کہ مجھے تو میری بیوی نے پختہ احمدی بنایا ہے۔ جب میں تنخواہ لے کر آتا تو وہ مجھے کہتی کہ کیا آپ چندہ دے آئے ہیں؟ میں کہتا کل دے دوں گا تو وہ کہتی میں اس مال سے کھانا نہیں پکاؤں گی۔ اس پر بسا اوقات مجھے آدھی آدھی رات کو جاکر چندہ دینا پڑا اور جب میں رسید دکھاتا تب وہ کھانا پکاتی، نہیں تو کہہ دیتی کہ میں حرام روپیہ سے کھانا نہیں پکاؤں گی۔ پس اگر عور تیں ہمارا ساتھ دیں اور وہ بچوں سے کہیں کہ اگر تم زندگی وقف نہ کرو گے ، اگر تم اپنے اندر دینداری پیدا نہ کرو گے تو میں تمہیں اپنا دودھ نہیں بخشوں گی اور میں خدا سے کہوں گی کہ اس نے میرا حق ادا نہیں کیا، میرا بیٹا میر اعاق ہے اس نے میرا کہا نہیں مانا تو تھوڑے ہی عرصے میں کایا پلٹ سکتی ہے۔ اگر مائیں یہ طریق اختیار کریں تو ننانوے فیصدی لڑکوں کی اصلاح ہو جائے اور ننانوے فیصدی لڑکے تعلیم میں تیز ہو جائیں اور ان کے اندر بیداری اور قربانی کی روح پیدا ہو جائے۔ میں اس موقع پر جماعت کی عورتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے لڑکوں کو تحریک کریں کہ وہ دین کے لئے اپنی زندگی وقف کریں اور جن لڑکوں کو سلسلہ قبول نہیں کرتا ان کو تحریک کریں کہ وہ اپنے خرچ سے بچا ہوا روپیہ اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے دیں۔ اگر ان کے لڑکے اس کام کے لئے تیار نہ ہوں تو ہر ماں کا فرض ہے کہ وہ اپنے بیٹے سے کہہ دے کہ تم نے میرا حق ادا نہیں کیا اور میں قیامت کے دن خدا کے سامنے تمہارے متعلق کہہ دوں گی کہ یہ میر انا فرمان بیٹا ہے اس نے میرا کہا نہیں مانا۔ میں دیکھتا ہوں کہ سلسلہ کے کاموں کو عظیم الشان طور پر چلانے کا وقت آگیا ہے۔ لیکن ہم اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک عور تیں ہمارے ساتھ تعاون نہ کریں۔ جس دن عور تیں یہ طریق اختیار کریں گی