خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 308

*1946 308 خطبات محمود اسلام نے ایسے حالات میں ہمارے لئے ایسی اعلیٰ راہنمائی کی ہے کہ در حقیقت ان احکام کی موجودگی میں ہمارے لئے گھبراہٹ اور تشویش کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔لیکن سوال یہ ہے کہ اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے کے لئے کتنے لوگ تیار ہوتے ہیں؟ غیر مسلم تو پہلے ہی اسلامی تعلیم پر اعتراض کرتے رہتے ہیں۔وہ مسلمان بھی جو اسلامی تعلیم کو ماننے والے ہیں اسلامی تعلیم سے بہت دور جاچکے ہیں اور قرآنی تعلیم کی طرف آنا پسند ہی نہیں کرتے بلکہ دوسری عدالتوں کے ذریعہ اپنا فیصلہ کرانا چاہتے ہیں۔اگر کسی مرد اور عورت میں جھگڑا پیدا ہو جائے او ران کو کہا جائے کہ قرآن کی تعلیم کے مطابق اس جھگڑے کو دور کرنے کی کوشش کرو تو رشتہ دار درمیان میں کود پڑتے ہیں اور کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ ان باتوں پر عمل کرنے سے کہیں گزارہ ہوتا ہے۔ہم ان کے مطابق کیسے فیصلہ کریں۔گویا اُن کے نزدیک قرآن کریم ایک افسانوں کی کتاب ہے جسے لائبریری کی زینت کے لئے رکھنا چاہئے لیکن اس پر عمل نہیں کرنا چاہئے۔جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم نا قابل عمل ہے ایسا شخص اسلام کے دائرہ میں رہتاہی کیوں ہے؟ ایسے شخص کو اسلام کی تعلیم کو چھوڑ دینا چاہئے اور کوئی ایسامذ ہب تلاش کرنا چاہئے جس کی تعلیم اسے قابل عمل نظر آئے تاکہ کم از کم اُس کی ضمیر تو آزاد رہے۔وہ جب اسلام کی تعلیم کو غلط اور نا پسندیدہ خیال کرتا ہے تو پھر ضمیر کو مارتے ہوئے اس کو کیوں پکڑے ہوئے ہے اور کیوں اسے چھوڑتا نہیں؟ میں اپنی جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ ہماری جماعت میں میاں بیوی کے جھگڑے پہلے کی نسبت زیادہ پیدا ہو رہے ہیں۔جہاں تک جھگڑوں کا سوال ہے جھگڑوں کا پیدا ہونا بُرا نہیں کیونکہ یہ انسانی خاصہ ہے کہ میاں بیوی میں کبھی کبھارر بخش بھی پیدا ہو جاتی ہے۔لیکن جھگڑا پیدا ہونے کے بعد اسلامی تعلیم کو نظر انداز کر دینا یہ بہت بُری چیز ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ لوگ ایسے حالات میں بالعموم اسلام کی تعلیم کو پس پشت ڈالتے ہوئے ظلم کی حد تک پہنچ جاتے ہیں اور اسلامی تعلیم کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔میرے لئے یہ صورت بہت ہی تکلیف دہ ہوتی ہے۔ہمارے لئے رسول کریم صلی یی کم کامل اسوہ ہیں۔ہم آپ کو دیکھتے ہیں کہ آپ نہ صرف خاوند تھے بلکہ آپ نبی بھی تھے ، آپ پیر بھی تھے اور آپ آقا بھی تھے۔لیکن باوجود