خطبات محمود (جلد 27) — Page 263
*1946 263 خطبات محمود قربانیاں کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔بلکہ ہماری جماعت بھی جسے محض اس کام کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھڑا کیا گیا ہے ابھی پورے طور پر اپنے فرض کی ادائیگی کی طرف متوجہ نہیں۔سینکڑوں نہیں ہزاروں آدمی ایسے ہیں جو مالی امداد تو دیتے ہیں مگر اتنی کم دیتے ہیں جو اُن کی عام مالی حالت سے بہت کچھ گری ہوئی ہوتی ہے۔اسی طرح مختلف قسم کی تحریکیں جو سلسلہ کی طرف سے کی جاتی ہیں ان کی طرف اتنی توجہ نہیں ہوتی جتنی توجہ کی وہ مستحق ہوتی ہیں۔مثلاً تحریک جدید ہی ہے۔تحریک جدید کا کام اب اتنا وسیع ہو گیا ہے کہ در حقیقت اس کا بوجھ بادشاہتیں بھی اچھی طرح نہیں اٹھا سکتیں۔کونسا مسلمان بادشاہ ہے جس نے دنیا کے چاروں کونوں میں مبلغین اسلام بھجوائے ہوں۔یہ کام ایسا ہے کہ نہ ترکوں کو اس کی کبھی توفیق ملی، نہ ایران کو کبھی یہ توفیق حاصل ہوئی، نہ مصر کو کبھی یہ توفیق ملی ، نہ مراکش کے بادشاہ کو یہ توفیق ملی ، نہ عرب کے بادشاہ کو یہ توفیق ملی اور نہ اب ان دوسری اسلامی حکومتوں کو یہ توفیق ملی یا مل رہی ہے جو قریب زمانہ میں قائم ہوئی ہیں۔صرف احمد یہ جماعت ہی ہے جس کی طرف سے ساری دنیا میں مبلغ بھجوائے گئے ہیں یا بھجوائے جا رہے ہیں۔یہ لوگ اپنی زندگیوں کو نہایت سادگی سے بسر کرتے اور ایسی تکلیف سے گزارہ کرتے ہیں کہ اس تکلیف کا اندازہ بھی دوسرا شخص نہیں لگا سکتا۔ایک معمولی سی بات ہے جس سے انسان کسی قدر ان کی حالت کو سمجھ سکتا ہے۔گو تکلیف کا احساس پورے طور پر نہ کر سکے۔گورنمنٹ کی طرف سے جو طالب علم امریکہ جاتے ہیں ان میں سے ہر طالب علم کو وہ ڈیڑھ سو ڈالر ماہوار خرچ دیا کرتی ہے۔گویا وہاں کے اخراجات کے لحاظ سے ڈیڑھ سو ڈالر فی کس مقرر ہے لیکن ہمارے مبلغ جو تین بچوں اور بیوی سمیت وہاں رہتے تھے ان کو سلسلہ کی طرف سے صرف ایک سو ڈالر ماہوار جایا کرتا تھا۔گویا گورنمنٹ نے ایک طالب علم کا جو خرچ مقرر کیا ہوا ہے اُس کا چھٹا حصہ ان کو ملا کر تا تھا۔ایک احمدی دوست امریکہ سے آئے تو انہوں نے سب سے زیادہ زور جس امر پر دیا تھا وہ یہی تھا کہ اگر ہم نے امریکہ میں تبلیغ کرنی ہے تو ہمیں کچھ نہ کچھ اخراجات تو مبلغین کو دینے چاہئیں۔انہوں نے اپنے طور پر اندازہ لگاتے ہوئے کہا کہ ہمارے مبلغ کی ایسی حالت نہیں کہ وہ اعلیٰ طبقہ میں