خطبات محمود (جلد 27) — Page 260
1946ء 260 خطبات محمود لازما اتنا ہمدردانہ نہیں ہو سکتا جتنا ہمدردانہ وہ نقطہ نگاہ ہو سکتا تھا جو خود مسلمانوں کے ایک طبقہ کی طرف سے پیش کیا جاتا۔ غرض میرے نزدیک چار اہم غلطیاں ہیں جو مسلمانوں سے ہوئیں اور جن کا خمیازہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ کب تک اور کن کن صورتوں میں انہیں بھگتنا پڑے گا۔ ابھی تو با هم گفت و شنید کا سلسلہ جاری ہے اور نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا کیا نتیجہ بر آمد ہو۔ اس مضمون کا دوسرا حصہ میں ابھی بیان نہیں کرتا کیونکہ وقت زیادہ ہو گیا ہے لیکن میرے نزدیک اب بھی اس فیصلہ میں بعض ایسی اصلاحیں کرانے کی کوشش کی جاسکتی ہے جن سے مسلمانوں کے حقوق بہت حد تک محفوظ ہو سکتے ہیں اور وہ خطرہ جو اس وقت مسلمانوں کو در پیش ہے کم ہو سکتا ہے۔ فی الحال میں صرف اتنا ہی بیان کرتا ہوں کہ میرے نزدیک چار چیزیں ہیں جن کی مسلمانوں کو ضرورت تھی اور جن کی طرف عدم توجہ کی وجہ سے انہیں نقصان پہنچا۔ ضرورت تھی اس بات کی کہ مسلمان اپنا قومی کریکٹر مضبوط کرتے، ضرورت تھی اس بات کی که مسلمان غیر ممالک میں پروپیگنڈا کی اہمیت کو ن کو سمجھتے ، ضرورت تھی اس با اس بات کی کہ مسلمان سیاسی طور پر غیر قوموں سے سمجھوتہ کرنے کی کوشش کرتے اور ضرورت تھی اس بات کی کہ مسلمان اس امر کو سمجھتے کہ تھوڑا بہت اختلاف جو قوم میں شقاق اور افتراق پیدا کرنے کا موجب نہ ہو اس کا برداشت کرنا قوم کے لئے مضر نہیں ہو تا بلکہ ترقی کے لئے مفید ہوتا ہے۔ اب بھی مسلمان اگر ان امور کی اہمیت کو محسوس کر لیں تو آئندہ ان کے بچاؤ کی بہت کچھ صورت پیدا ہو سکتی ہے۔ ا اللہ تعالیٰ نے چاہا تو آئندہ خطبہ جمعہ میں یا ایک علیحدہ مضمون کی صورت میں میں وہ امور بیان کروں گا جن کو مد نظر رکھتے ہوئے میرے نزدیک اب بھی وزارتی کمیشن کے فیصلہ میں ایک حد تک اصلاح کی صورت پیدا کی جاسکتی ہے۔“ (الفضل 3 جون 1946ء)