خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 259

1946ء 259 خطبات محمود سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے پاکستان سے نیچے اُتر کر بعض اور ذرائع بھی ہو سکتے ہیں اور وہ ان ذرائع کو ایک سکیم کی صورت میں پیش کرتے یا مسلم لیگ ان کی آواز کمیشن تک پہنچادیتی۔ تو کمیشن کو مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے متعلق خود کچھ سوچنے کی تکلیف گوارہ نہ کرنی پڑتی۔ ممبران کمیشن سمجھتے کہ اگر مسلم لیگ کی سکیم کو ہم نے قبول نہیں کیا تو مسلمانوں کے ایک اور طبقہ کی طرف سے پاکستان سے نیچے اُتر کر ایک اور سکیم ہمارے سامنے پیش کی جارہی ہے۔ آؤ ہم اس کو قبول کر لیں۔ اس طرح مسلمانوں کے حقوق موجودہ صورت سے بہت زیادہ محفوظ ہو جاتے یا کم سے کم وہ باتیں جو اب مشن کے ذہن میں نہیں آئیں اس سکیم کے پیش ہونے کی صورت میں اس کے ذہن میں آجاتیں اور اس کے ممبر سمجھتے کہ مسلمانوں کے حقوق اس اس رنگ میں زیادہ محفوظ ہو سکتے ہیں۔ یہ طریق یقیناً زیادہ مفید ہوتا اور یقیناً اس کے نتائج مسلمانوں کے حق میں بہت بہتر ثابت ہوتے۔ کانگرس نے ہمیشہ یہ طریق استعمال کیا ہے اور ہمیشہ اپنی بغل میں ایک دشمن کو بھی رکھا ہے۔ یہ سیدھی بات ہے کہ اپنی بغل میں کوئی دشمن نہیں رکھ سکتا اور اگر رکھتا ہے تو وہ ضرور اس کی کوئی سیاسی چال ہو گی کہ ظاہر میں تو اس کو دشمن قرار دیا جائے لیکن اندرونی طور پر وہ اس کا ہم خیال ہو اور اس کے منہ سے ایسی باتیں نکلوائی جائیں جو اس کو فائدہ پہنچانے والی ہوں۔ غرض کانگرس نے ہمیشہ یہ سیاسی چال چلی اور اس نے بعض لوگوں کو اپنے سے سوا ظاہر کر کے کمیشن کے سامنے پیش کیا تا اگر ان کی سکیم منظور نہ ہو تو وہ کہہ سکیں کہ اگر کانگرس مسلمانوں کے حقوق کے متعلق جو کچھ سکیم پیش کرتی ہے اُسے آپ منظور نہیں کر سکتے تو آزاد مسلم کا نفرنس والے جو کچھ کہتے ہیں وہ مان لیا جائے۔ یہ تو نہ کانگرس میں شامل ہیں نہ مسلم لیگ میں۔ جو کچھ یہ کہتے ہیں وہی دے دیا جائے۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ وہ درمیان میں رہنے والے نہیں تھے بلکہ کانگرس کے طرفدار تھے۔ اسی طرح مسلم لیگ کی طرف سے اگر یہ نہ کیا جاتا کہ جو شخص ذرا بھی مسلم لیگ کی سکیم سے اختلاف کرے گا اسے سواد مسلمین سے خارج قرار دیا جائے گا تو یقیناً اسلام اور مسلمانوں کے لئے یہ رواداری بہت زیادہ مفید ہوتی کیونکہ مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے اسلامی نقطہ نگاہ پاکستان سے نیچے اُتر کر کمیشن کے سامنے آجاتا اور کمیشن کو خود اپنی طرف سے کوئی نیا نقطہ نگاہ پیش نہ کرنا پڑتا جو