خطبات محمود (جلد 27) — Page 257
1946ء 257 خطبات محمود پس اگر وہ مذہب کی بجائے رسم و رواج نام رکھ لیتے یا طریقہ نام رکھ لیتے یا اقتصادی درستی کا اسے ایک ذریعہ قرار دے دیتے تو میں سمجھتا ہوں اس طریق سے سارے یورپ کو اپنے مطالبات کا قائل کیا جا سکتا تھا۔ مثلاً مثنا اگر یہ کہا جائے کہ گائے کی قربانی مذہبی مذہبی نقطہ نقطہ نگاہ سے سے ہمارے لئے ضروری ہے تو سارا یورپ کہے گا یہ بالکل لغو بات ہے کیونکہ یورپ کے نزدیک مذہب کے نام پر کسی قسم کی قربانی ایک لغو حرکت ہے۔ پس اگر یہ مطالبہ کیا جائے کہ ہمیں قربانی کے لئے گائے ذبح کرنے کی اجازت ہونی چاہئے کیونکہ ہمارا مذہب ہمیں اس قربانی کی تعلیم دیتا ہے تو سارا یورپ کہے گا یہ لغو مطالبہ ہے۔ لیکن اگر اس بات کو اس رنگ میں پیش کیا جائے کہ مسلمان غریب ہے، اس کے پاس کھانے کے لئے گوشت نہیں ہوتا مگر اپنی صحت قائم رکھنے کے لئے مجبور ہوتا ہے کہ گوشت کھائے اور اس کے پاس سوائے گائے ذبح کرنے کے اور کوئی چارہ نہیں۔ ہند و چاہتے ہیں کہ مسلمان کو نقصان پہنچے ، ان کی صحتیں بگڑ جائیں اور انہیں کھانے کے لئے گوشت میسر نہ آئے تو سارے یورپ کے لوگ کہہ اٹھیں گے کہ یہ بڑی معقول بات ہے مسلمانوں کو گائے ذبح کرنے کی ضرور اجازت ہونی چاہئے۔ تو ذرا سی شکل بدل دینے سے پروپیگنڈا کی شکل بدل جاتی ہے۔ ایک شکل میں یورپ اسے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہو گا، امریکہ اسے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہو گا، انگلستان اسے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہو گا لیکن اگر اسے دوسری شکل دے کر یہ کہنے لگ جاوے کہ ہماری دقتیں سیاسی دقتیں ہیں، ہماری دقتیں اقتصادی دقتیں ہیں، ہماری دقتیں تنظیمی دقتیں ہیں تو سارا یورپ ان باتوں کی قیمت دینے کے لئے تیار ہو جائے گا۔ غرض اسلامی نقطہ نگاہ کبھی بھی سیاسی طور پر دنیا کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔ اقتصادی طور پر دنیا کے سامنے پیش نہیں کیا گیا، تنظیمی طور پر دنیا کے سامنے پیش نہیں کیا گیا بلکہ مذہبی طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ اور اس وجہ سے کہ ہمیشہ اس کو مذہبی رنگ میں پیش کیا گیا قوموں نے تھو تھو کر نا شروع کر دیا۔ یورپ اور امریکہ میں مسلمانوں کے مطالبات کو نظر انداز کر دیا گیا۔ یہاں تک کہ اسلامی ممالک میں بھی ان کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔ لوگوں نے یہی سمجھا کہ یہ مولویوں کے جھگڑے ہیں ان کو کوئی اہمیت نہیں دینی چاہئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ باوجود اس کے کہ کمیشن کے فیصلہ میں مسلمانوں کے