خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 255

1946ء 255 خطبات محمود اپنے خدشات ان کے سامنے بیان کرتے ہیں تو وہ مان ہی نہیں سکتے کہ مسلمانوں کو کوئی حقیقی خطرہ درپیش ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انگریزی حکومت کو لمبا کرنے کے لئے بعض افسر ہندوؤں اور مسلمانوں کو آپس میں لڑاتے رہتے ہیں۔ اور تو اور خود انگلستان میں ایسی کتابیں لکھی گئی ہیں جن میں بڑے زور سے یہ بات بیان کی گئی ہے کہ ہمارے آئی۔ سی۔ ایس ہندوؤں اور مسلمانوں کو آپس میں لڑواتے رہتے ہیں تاکہ ہماری حکومت لمبی ہو جائے اور کئی انگریز بڑی دلیری سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ محض ہمارے افسروں کی شرارت کا نتیجہ ہے ورنہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں کونسا جھگڑا ہو سکتا ہے۔ لیکن کانگرس۔ رس جب اپنی آواز بلند کرتی ہے تو اس کا غیر ممالک پر نمایاں اثر ہوتا ہے۔ وہ کہتی ہے ہم ہندوؤں کے نمائندہ نہیں اور جب وہ کہتی ہے کہ ہم ہندوؤں کے نمائندہ نہیں تو دوسرے الفاظ میں دنیا پر یہ اثر ڈالا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں ہندو مسلم کوئی سوال نہیں۔ پھر کانگرس نے ہو شیاری یہ کی کہ پریزیڈنٹ مولانا ابولکلام آزاد کو بنا دیا۔ اسی طرح سیکر ٹری وغیرہ عہدوں پر بعض مسلمان مقرر کر دیئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب بھی کانگرس کے کسی کام کی رپورٹ دنیا کے سامنے جاتی ہے تو اس میں لکھا ہوتا ہے کہ مولانا ابو الکلام آزاد اور مسٹر راجندر پرشاد نے فلاں کام کیا۔ اس کا طبعی طور پر لوگوں پر یہ اثر پڑتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں اس میں ساری قو میں شامل ہیں۔ ہندو بھی شامل ہیں، مسلمان بھی شامل ہیں، سکھ بھی شامل ہیں۔ پھر مسلمان کس طرح کہتے ہیں کہ یہ محض قومی آرگنائزیشن ہے۔ لیکن مسلمانوں نے شروع سے اس کے خلاف طریق عمل رکھا۔ انہیں چاہئے تھا کہ غیر قوموں سے بھی میل جول رکھتے۔ ہندوستان میں ہزاروں نہیں لاکھوں لاکھ ہندو ایسے ہیں جو حقیقی معنوں میں اپنی قوم سے دُکھیا ہیں۔ اگر ان کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی جاتی تو آج نتیجہ بالکل اور نکلتا۔ مثلاً مسلم لیگ کی بجائے نیشنل لیگ بنا لیتے اور اس کے اصول اس قسم کے رکھتے جن کا طبعی نتیجہ مسلمانوں کے حق میں نکلتا جس طرح کا نگرس نے اپنے اصول ایسے رکھے ہیں جن کا طبعی نتیجہ ہندوؤں کے حق میں نکلتا ہے۔ تو ہر دیکھنے والا سمجھتا کہ یہ کوئی مذہبی جماعت نہیں بلکہ ایک سیاسی جماعت ہے جو تمام کمزور طبقوں کی حفاظت کا کام سر انجام دینے کے لئے کھڑی ہوئی ہے اور اس کے دل میں بھی خواہش پیدا ہوتی کہ میں اس میں شامل ہو جاؤں۔ اسی طرح